شمالی ورجینیا سے تعلق رکھنے والی ماں اور بیٹی جوکہ شوقیہ بریڈرز ہیں نے ایسے ننھے تربوز اگائے جو سائز میں مرغی کے انڈے جتنے ہیں تاہم بڑے تربوز کی طرح مٹھاس اور ذائقہ رکھتے ہیں۔
تربوزنہ صرف اپنی جسامت اور وزن بلکہ اپنی بیل کے وسیع رقبے پرپھیلنے کی وجہ سے ہمیشہ سے ہی گرین ہاؤس اور عمودی کاشتکاری کے لیے ایک مشکل فصل رہا ہے۔

تاہم ان ماں بیٹی نے تربوز کے بنیادی خصوصیات کو بدلے بغیر غیر جینیاتی ترمیم اورکیمیائی تبدیلی کے طریقے اپناتے ہوئے اس کا سائز کم کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ترک سیاستدان کی اسٹائلش مونچھوں کے ہر سو چرچے
ہائی اسکول کی محقق ڈیلینی ریپٹس اور ان کی والدہ نے 2021 میں یہ منفرد بریڈنگ پروگرام شروع کیا جس کا مقصد انتہائی چھوٹے پھل پیدا کرنا تھا کئی نسلوں کے بعد انہوں نے تربوز کا سائز کئی کلوگرام سے کم کر کے تقریباً 80 سے 200 گرام تک کر دیا اور کچھ تو مرغی کے انڈے جتنے بھی ہیں۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد تربوز کو ہائی ڈینسٹی گرین ہاؤسز اورعمودی فارموں کے لیے موزوں بنانا تھا جہاں فی مربع میٹر زیادہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔
یہ چھوٹے تربوز پھل کے ضیائع کو بھی کم کریں گے اور ایک فرد کے لیے موزوں پھل کے طور پر بھی مقبول ہوسکتے ہیں۔
ننھے تربوز کے بیج بھی عام تربوز کی نسبت کافی چھوٹے ہیں تاہم ان کا چھلکا کھانے کے قابل ہے یا اسے چھیلنا پڑے گا یہ پتا نہیں۔




















