صوبائی سطح پر زیر غور مجوزہ قانون کے تحت عادی مجرمان کی نگرانی کے لیے پہلی بار جدید الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس کے استعمال کی تجویز سامنے آ گئی ہے۔
مجوزہ نظام کے مطابق ایسے افراد جنہیں بار بار جرائم میں ملوث پایا جائے انہیں عادی مجرم قرار دے کر خصوصی نگرانی کے دائرے میں لایا جا سکے گا۔
بل کے متن کے مطابق ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی ابتدائی تحقیقات کے بعد کسی بھی شخص کو عادی مجرم قرار دینے کی مجاز ہوگی جس کی سفارش پر متعلقہ مجسٹریٹ نگرانی کا باضابطہ حکم جاری کرے گا۔
ایسے افراد کو الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس پہننے کا پابند بنایا جا سکے گا جس کے ذریعے ان کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جائے گی۔
مجوزہ قانون کے تحت نگرانی کا یہ نظام ابتدائی طور پر تین ماہ تک نافذ رہے گا تاہم ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عادی مجرموں سے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا اختیار بھی مجسٹریٹ کو دینے کی تجویز شامل ہے۔
قانون کے مطابق بار بار جرائم کرنے والے، منظم جرائم میں ملوث افراد، نفرت انگیز تقاریر یا اشتعال انگیز مواد پھیلانے والے افراد، بلیک میلنگ، دھمکیوں، ہتھیاروں کی نمائش، خواتین کو ہراساں کرنے، عریاں حرکات، جوا کروانے، شراب فروخت کرنے اور جعلی دستاویزات بنانے جیسے اقدامات میں ملوث افراد کو معاشرہ مخالف رویہ کے زمرے میں شامل کیا جا سکے گا۔
اسی مجوزہ فریم ورک کے تحت سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانا بھی معاشرہ مخالف رویہ قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی ممکن ہو سکے گی۔
عادی مجرموں کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے گا جبکہ فنگر پرنٹس، ڈی این اے اور دیگر بائیومیٹرک معلومات سرکاری ڈیٹا بیس میں محفوظ کی جائیں گی تاکہ مکمل پروفائلنگ ممکن ہو سکے۔
ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کو اس نظام میں غیر معمولی اختیارات دینے کی تجویز ہے۔ کمیٹی نہ صرف کسی شخص کو عادی مجرم قرار دے سکے گی بلکہ بینک اکاؤنٹس منجمد کروانے، پاسپورٹ بلاک کرنے اور نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش بھی کر سکے گی۔ اسی طرح سائبر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی بھی ممکن ہوگی۔
کمیٹی کے ڈھانچے کے مطابق ڈویژنل کمشنر کو کنوینر مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ پولیس، اسپیشل برانچ، سی ٹی ڈی اور وفاقی انٹیلیجنس اداروں کے نمائندے بھی اس کا حصہ ہوں گے۔ یہ کمیٹی ہر ماہ اجلاس منعقد کرنے کی پابند ہوگی اور اس کے فیصلے نیک نیتی پر مبنی تصور کیے جائیں گے۔
الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس کے استعمال اور ضمانتی مچلکوں کی شرائط پر عملدرآمد لازمی قرار دینے کی تجویز بھی شامل ہے جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں تین سال تک قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت متاثرہ شخص کو ضلعی، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر اپیل کا حق حاصل ہوگا جبکہ ٹریبونل میں بھی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جا سکے گی۔ اپیل دائر کرنے کی مدت 30 دن مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
قانون سازی کا مقصد ریاستی رٹ کا قیام، عوامی امن و امان کا تحفظ اور منظم جرائم کی روک تھام قرار دیا گیا ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر نگرانی کو اس پورے نظام کا بنیادی ستون بتایا گیا ہے۔




















