Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

طالبان رجیم کا ہزارہ و شیعہ برادری کے خلاف امتیازی سلوک، فقہ جعفری کی سرکاری حیثیت ختم

حزبِ وحدت اسلامی کا طالبان رجیم کی جانب سے ہزارہ و شیعہ برادری کے خلاف مبینہ امتیازی اقدامات پر شدید احتجاج۔

طالبان رجیم نے ہزارہ و شیعہ برادری کے خلاف امتیازی سلوک کرتے ہوئے جعفری فقہ کی سرکاری حیثیت کو ختم کردیا ہے۔

حزبِ وحدت اسلامی نے طالبان رجیم کی جانب سے ہزارہ و شیعہ برادری کے خلاف مبینہ امتیازی اقدامات پر شدید احتجاج کیا ہے۔

حزبِ وحدت اسلامی کے مطابق طالبان رجیم نے جعفری فقہ کی سرکاری حیثیت ختم کردی ہے جب کہ عاشورہ تقریبات پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ حسینی علامات اور پرچموں کی توہین بھی کی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً ایک کروڑ افغان شہری سیاسی حقوق اور ریاستی شمولیت سے محروم ہیں جب کہ غزنی میں ہزارہ و شیعہ خاندانوں کی املاک پر قبضے سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں۔

حزبِ وحدت اسلامی کا کہنا ہے کہ کابل میں زمینوں کو غصب شدہ قرار دے کر طالبان نے قبضہ کرلیا جس کے باعث ہزاروں خاندان غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہرات کی ایک مارکیٹ کو جابرانہ طریقے سے ’’امارت کی ملکیت‘‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ شیعہ علماء کی تضحیک کے ساتھ ذاتی احوال سے متعلق مذہبی معاملات پر بھی دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کابل میں خاتم النبیین اسکول و یونیورسٹی پر مسلح چھاپہ مارا گیا جب کہ اساتذہ اور طلبہ کو بلاجواز گرفتار کیا گیا۔

حزبِ وحدت اسلامی کا مزید کہنا ہے کہ ہزارہ عمائدین اور شیعہ برادری کے رابطہ دفتر کو بھی بند کردیا گیا اور متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حزبِ وحدت اسلامی نے طالبان رجیم کے اقدامات کو آمرانہ نظام کی بے بسی اور زوال کے خوف کی علامت قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں