پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد اور اسرائیلی وزرا ایتامار بن گوئر اور اسرائیل کاٹز کے بیانات کو قابل مذمت قرار دے دیا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کے منصوبے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جبکہ جبری بے دخلی سے متعلق بیانات فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
اعلامیے کے مطابق فلسطینیوں کو مقبوضہ علاقوں کے اندر یا باہر منتقل کرنے کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے۔ جبری بے دخلی کو پالیسی یا عملی اقدام میں تبدیل کرنے کے سنگین نتائج ہوں گے، جبکہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے اکھاڑنے کی کوششیں خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔
وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ ایسی کوششوں سے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جاری بین الاقوامی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ غزہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا لازمی اور ناقابل تقسیم حصہ ہے، جبکہ غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس سمیت تمام فلسطینی علاقوں کا اتحاد ناگزیر ہے۔
آٹھوں اسلامی ممالک نے کہا کہ منصفانہ اور دیرپا امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل کا نفاذ ہے۔ 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے اور مشرقی بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت بنایا جائے۔
اعلامیے میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نئی جغرافیائی حقیقت مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا مؤثر مقابلہ کیا جائے۔



















