اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ انتہائی جدید اے آئی ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے وولکر ترک نے میٹا، اوپن اے آئی، گوگل اور اینتھروپک کو ان چار کمپنیوں میں شامل قرار دیا جن کے پاس مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے حوالے سے تقریباً لامحدود طاقت موجود ہے۔
وولکر ترک نے جدید مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے حوالے سے مضبوط اور ناقابلِ تردید حفاظتی ضمانتوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بہت دیر ہونے سے پہلے اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے بالخصوص ایسے اے آئی نظاموں پر تشویش کا اظہار کیا جو آزمائشی ماحول سے باہر نکلنے یا بند کیے جانے سے بچنے کے لیے اپنے ڈویلپرز کو بلیک میل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سربراہ کا یہ بیان اے آئی کی جانب سے آزمائشی ماحول سے باہر نکلنے سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جولائی میں اوپن اے آئی کے تیار کردہ کچھ اے آئی نظام ہگنگ فیس کے سرورز تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اور متعدد کمپیوٹرز پر کوڈ چلایا گیا تھا۔
اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے بعد میں وضاحت کی تھی کہ یہ واقعہ حادثاتی طور پر پیش آیا اور کسی باقاعدہ تجربے کا حصہ نہیں تھا۔
وولکر ترک نے کہا کہ وہ حکومتوں کے اقدامات کا انتظار کرنے کے بجائے آنے والے دنوں میں براہِ راست مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو خط لکھیں گے اور ان پر زور دیں گے کہ وہ اپنے اختیار میں موجود معاملات پر فوری اقدامات کریں۔
انہوں نے اے آئی کے بنیادی ڈھانچے اور سپلائی چینز کی میزبانی کرنے والے ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ مشترکہ حدود اور اصول طے کریں۔
وولکر ترک کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں آزادانہ تصدیقی نظام قائم کرنے، سیکیورٹی کے معیارات بہتر بنانے اور کمپنیوں کے درمیان تعاون مضبوط کرنے کی فوری ضرورت ہے۔




















