کراچی کی کے ایم سی بلڈنگ میں میئر آفس کے اندر اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں دفتر کا فرنیچر اور دیگر سامان جل کر خاکستر ہوگیا تاہم فائر بریگیڈ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا۔
فائر بریگیڈ کی تین گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کی اور آگ کو میئر آفس کے کمرے تک محدود رکھتے ہوئے مکمل طور پر بجھادیا جب کہ واقعے میں کسی سرکاری ریکارڈ کے جلنے کی اطلاع نہیں ملی۔
واقعے کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میئر آفس میں آگ اچانک لگی تاہم یہ کسی کی کارروائی تھی یا محض حادثہ، اس حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ آگ سے ان کا کمرہ متاثر ہوا ہے تاہم میئر چیمبر محفوظ رہا۔ بروقت کارروائی کے باعث آگ کو مزید پھیلنے سے روک دیا گیا۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ ان کے کمرے میں کوئی اہم فائل یا سرکاری ریکارڈ موجود نہیں رکھا جاتا جب کہ فائلوں پر دستخط کے بعد انہیں متعلقہ محکمے کو بھجوا دیا جاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آتشزدگی کے واقعے میں کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں جلا، البتہ کمرے کا فرنیچر اور در و دیوار متاثر ہوئے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے گفتگو کے دوران قدرے دلچسپ انداز میں کہا کہ گزشتہ کئی روز سے کراچی میں اچھے ایونٹس ہورہے تھے اور وہ یہی سوچ رہے تھے کہ کہیں نظر نہ لگ جائے۔
میئر کراچی کے مطابق آگ لگنے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جس کے بعد یہ واضح ہوسکے گا کہ آتشزدگی حادثاتی طور پر ہوئی یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی۔
















