آزاد کشمیر میں تراڑ کھل روڈ پر بند راستے کھولنے کے لیے جاری کلیئرنس آپریشن کے دوران مسلح جتھے کے سنائپرز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا رینجرز اہلکار دورانِ علاج جام شہادت نوش کرگیا۔
ذرائع کے مطابق 4 ستمبر کو تراڑ کھل روڈ کی کلیئرنس کے دوران مسلح جتھے کے سنائپرز نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں رینجرز کے جوان سپاہی آصف حسین گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگئے۔
زخمی سپاہی آصف حسین کو فوری طور پر سی ایم ایچ منتقل کیا گیا، جہاں وہ زیر علاج رہے، تاہم 10 ستمبر کو سی ایم ایچ راولپنڈی میں دوران علاج جام شہادت نوش کرگئے۔
ذرائع کے مطابق علاقے میں آمد و رفت میں شدید مشکلات اور غذائی قلت کے باعث مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا تھا، جس پر علاقہ مکینوں کے پُرزور مطالبے کے بعد بند راستوں کو کھولنے کے لیے کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا تھا۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر مسلح جتھے کی جانب سے جدید اسلحے اور بارودی مواد کا استعمال باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی جانے والی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی بے مثال قربانیاں اس حقیقت کی غمازی کرتی ہیں کہ ریاستی رٹ کا ہر حال میں قیام اور اس کا تحفظ ناگزیر ہے۔
سیکیورٹی ماہرین نے ریاستی اداروں پر حملوں میں ملوث مسلح جتھوں کے خلاف فوری، سخت اور بلاامتیاز قانونی کارروائی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔















