Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

موجودہ طریقہ کار کے تحت ریلیف اسکیم چلانا ناممکن ہے، پیٹرولیم ڈیلرز

اسمارٹ لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے، اس سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی، چیئرمین

کراچی: پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت کی فیول ریلیف اسکیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے عہدیداروں اور ڈیلرز کے ہمراہ کراچی میں پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر وائس چیئرمین انور کمال نے کہا کہ وزیراعظم کی ریلیف اسکیم کا خیرمقدم کرتے ہیں تاہم اس کے طریقہ کار پر شدید تحفظات ہیں۔

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت نے ریلیف اسکیم بناتے وقت پیٹرولیم ڈیلرز کو اعتماد میں نہیں لیا۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ موجودہ طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے اور ریلیف اسکیم کے لیے قابل عمل لائحہ عمل بنایا جائے۔

ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کا طریقہ آسان بنایا جائے اور اس کا بوجھ ڈیلرز پر نہ ڈالا جائے۔ مہنگائی کے باعث ہمارا سرمایہ پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے جب کہ ریلیف اسکیم کے تحت اربوں روپے پھنسنے کا خدشہ ہے جس کا ازالہ کون کرے گا۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اربوں روپے کے واجبات پہلے ہی التوا کا شکار ہیں جب کہ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ طریقہ کار کے باعث ملک بھر کے 14 ہزار ڈیلرز مالی بحران کا شکار ہوں گے۔

ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ وعدے کے مطابق پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن فوری طور پر 8 فیصد کیا جائے جب کہ پیٹرولیم پالیسی سازی میں ڈیلرز ایسوسی ایشن کی نمائندگی شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ اعلان پر نظرثانی کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔ ڈیلرز نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کے بجائے 30 روز میں ایک بار مقرر کی جائیں۔

ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریلیف اسکیم پر فوری مشاورت کی جائے اور ایسا لائحہ عمل بنایا جائے جو قابل عمل ہو۔ ریلیف اسکیم کا بوجھ ڈیلرز پر نہیں ڈالا جائے اور ان کے سرمائے کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ حکومت ریلیف اسکیم کے بارے میں پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سے مشاورت کرے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مہینے میں ایک مرتبہ مقرر کی جائیں۔

چیئرمین ملک خدا بخش نے کہا کہ ملک میں کمپنی آپریٹڈ پمپس کا تناسب 2 فیصد ہے۔ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے، اس سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن ممکن نہیں، کورونا کی وبا کے دوران اس پر عمل ہوسکتا تھا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بحران کا حل اسمارٹ لاک ڈاؤن نہیں۔

متعلقہ خبریں