ہم عام طور پر دماغ کو ایک ہی عضو سمجھا جاتا ہے، لیکن سائنس دانوں کی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغ کے اگلے اور پچھلے حصے شاید شروع ہی سے الگ الگ نظاموں کے طور نشوونما پاتے ہیں۔
آپ کا دماغ جب یہ الفاظ پڑھ رہا ہے، اسی وقت دماغ کا ایک دوسرا حصہ آپ کی سانس، دل کی دھڑکن اور جسم کے دوسرے ضروری کام بھی چلا رہا ہے۔
دماغ کے دو مختلف حصے
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے چوہوں پر تحقیق کی۔ ان کے مطابق دماغ کا اگلا حصہ جیسے مڈ برین کہا جاتا ہے سوچنے، محسوس کرنے اور معلومات سمجھنے جیسے کاموں میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ پچھلا حصہ ہنڈ برین سانس لینے، دل کی دھڑکن اور زندگی کے لیے ضروری دوسرے کاموں کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
نئی تحقیق میں اس جانب اشارہ ملتا ہے کہ یہ دونوں حصے شروع ہی سے مختلف قسم کے ابتدائی خلیوں سے تشکیل پاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دماغ کو عمر بھر جوان رکھنے کا راز، اب آپ کے ہاتھ
یہ فرق کب پیدا ہوتا ہے؟
حمل ٹھہرنے کے تقریباً تین ہفتے بعد انسانی جسم میں صرف چند دسیوں ہزار خلیے ہوتے ہیں یہ خلیے تین بڑی تہوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔
ایک تہہ سے بعد میں آنتیں، پھیپھڑے، مثانہ، جگر اور لبلبہ وغیرہ بنتے ہیں دوسری تہہ سے ہڈیاں، پٹھے، تولیدی اعضا اور خون کی گردش کا نظام بنتا ہے جبکہ تیسری تہہ کو ایکٹوڈرم کہا جاتا ہے۔ اس سے بعد میں جلد اور اعصابی نظام، یعنی دماغ اور اعصاب بنتے ہیں۔
سائنس دانوں کا ایک اہم سوال یہ تھا کہ کیا اس مرحلے پر ہی کچھ خلیے طے کر لیتے ہیں کہ وہ دماغ کے اگلے حصے کا حصہ بنیں گے اور کچھ پچھلے حصے کا؟
محققین نے ایک ہفتے کے چوہے کے جنین کا مطالعہ کیا اور دیکھا کہ دماغ بنانے والے خلیوں کی دو الگ مجموعہ موجود ہے۔
سادہ الفاظ میں کچھ خلیے دماغ کے اگلے حصے کی طرف جا رہے تھے، جبکہ کچھ خلیے پہلے ہی پچھلے دماغ کی طرف مخصوص ہو چکے تھے یعنی دماغ کے مختلف حصے شاید بعد میں ایک ساتھ بننے کے بجائے ابتدا ہی سے الگ راستوں پر چل پڑتے ہیں۔
اس دریافت کی اہمیت کیا ہے؟
یہ تحقیق اسٹیم سیل کے شعبے کے لیے بہت اہم رکھتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس دان اسٹیم سیلز کو مختلف قسم کے خلیوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماضی میں جب انہوں نے دماغ کے پچھلے حصے کے مخصوص اعصابی خلیے بنانے کی کوشش کی تو انہیں کامیابی نہیں ملی۔
نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ جن خلیوں کو استعمال کیا جا رہا تھا وہ پہلے ہی دماغ کے اگلے یا درمیانی حصے کے خلیے بننے کا فیصلہ کر چکے تھے۔
اب محققین نے ایک ابتدائی اسٹیم سیل کو ایسے موٹر نیورون میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جو دماغ کے پچھلے حصے میں پائے جانے والے نیورون سے مشابہ ہے یہ دریافت مستقبل میں دماغ اور اعصابی بیماریوں کی تحقیق میں مدد دے سکتی ہے۔
مثلاً سائنس دان لیبارٹری میں ایسے دماغی خلیے بنا سکتے ہیں جو حقیقی انسانی دماغ کے خلیوں سے زیادہ مشابہ ہوں۔ پھر ان خلیوں پر بیماریوں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے اور مستقبل میں علاج کے نئے طریقے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔




















