نیویارک: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی پابند معاہدہ ہے، کوئی ملک یکطرفہ معطل نہیں کرسکتا۔
اسحاق ڈار نے نیویارک میں او آئی سی رابطہ گروپ برائے افغانستان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سیاسی اور شہری آزادیوں پر مسلسل پابندیاں تشویشناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی، سیاسی اور ثقافتی شناخت تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جموں و کشمیر کا تنازع عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوئی ملکی قانون سازی، عدالتی فیصلہ، انتخابی عمل یا آبادیاتی تبدیلی کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کا متبادل نہیں ہو سکتی، او آئی سی رکن ممالک اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر جموں و کشمیر کے معاملے پر متحدہ مؤقف برقرار رکھیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، جموں و کشمیر تنازع کا حل متعلقہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
نائب وزیراعظم نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دے رہا ہے، افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک، بالخصوص پاکستان کے خلاف دہشت گردی سے روکنے کے لیے ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کی ضرورت ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کوہاٹ میں حالیہ دہشت گرد حملہ، دہشت گردی کے سنگین خطرے کی واضح یاد دہانی ہے، کوہاٹ دہشت گرد حملے میں بے گناہ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، دہشت گرد گروہوں اور ان کی پناہ گاہوں کے خلاف فوری اور ٹھوس کارروائی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے طالبان پر افغانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم کریں۔
اسحاق ڈار نے اسلامی اصولوں اور مسلم معاشرے کے تقاضوں سے متصادم خواتین و بچیوں پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ افغانستان میں سیاسی طور پر جامع طرز حکمرانی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
نائب وزیراعظم نے افغانستان واپس آنے والے مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری اور معاشرے میں انضمام میں سہولت فراہم کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی انسانی ضروریات اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے مناسب عالمی مالی معاونت کی ضرورت ہے، پاکستان مستحکم اور خوشحال افغانستان کے قیام کی حمایت کرتا ہے جو ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن سے رہے۔
















