ریاض میں پاک، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور تینوں ممالک کے دفاعی اتحاد کو مزید فعال بنانے پر غور کیا جائے گا۔
ترک وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یاشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوک بائرکتاراوغلو شرکت کریں گے، جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے حکام بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے بعد ازاں مکہ دفاعی اتحاد کا نام دیا گیا۔ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا اور فریقین اجتماعی دفاع و سلامتی کے لیے تعاون کریں گے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حوثی گروپ سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کے علاوہ مملکت کے ہوائی اڈوں، توانائی تنصیبات اور دیگر اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنا چکا ہے، تاہم سعودی فضائی دفاع نے متعدد حملے ناکام بنائے ہیں۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 2 اکتوبر کو کہا تھا کہ مکہ معاہدے کے تحت ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو 17 سے 18 حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پاکستان سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف بھی حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان کسی بھی خطرے کی صورت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔















