پشاور: پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے خلاف پشاور کے اسمبلی چوک میں تاجر برادری نے احتجاج کیا جب کہ مظاہرین نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مہنگائی اور بے روزگاری پر تشویش کا اظہار کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے باعث راستے بند ہونے سے پنجاب کے ساتھ اربوں روپے کا کاروبار متاثر ہورہا ہے، حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو صوبہ بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔
احتجاج کرنے والے تاجروں نے کہا کہ 13 سال سے صوبائی حکومت نے عوام کو ایسے ہی چھوڑ رکھا ہے اور وہ حکومت کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ صوبے میں مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے جب کہ بے روزگاری میں بھی بہت اضافہ ہوگیا ہے۔ سہیل آفریدی کے منصب سنبھالنے کے بعد صوبہ تباہی کی طرف گامزن ہے جب کہ ایم این ایز اور ایم پی ایز اپنے مارچ میں مصروف ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ گرفتار پی ٹی آئی کارکنان کی بھی پارٹی کی جانب سے کوئی خبر گیری نہیں کی گئی جب کہ صوبائی حکومت عوام کے ساتھ ساتھ تاجر برادری کو بھی دھوکا دے رہی ہے۔
تاجر برادری کے مطابق پی ٹی آئی لانگ مارچ کے باعث کاروبار کو کافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، پنجاب کے ساتھ اربوں روپے کا کاروبار جاری ہے لیکن راستے بند ہونے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ تاجر برادری اور عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، ایسے میں راستوں کی بندش سے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
احتجاج میں شریک تاجروں نے کہا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز ہفتے میں ایک مرتبہ تاجروں سے ملاقات کرتی ہیں تاہم خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے ملاقات کے لیے طویل عرصے سے کوشش کے باوجود کوئی ملاقات نہیں ہوسکی۔
مظاہرین نے مزید کہا کہ تاجر برادری متحد ہوچکی ہے اور عوام کو ساتھ لے کر صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔
تاجر کہتے ہیں کہ ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی تاجر برادری سے ملاقات نہیں کرتے، اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی تو صوبہ بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔



















