Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں کے ٹی ٹی پی سے براہ راست رابطے ہیں، محسن نقوی

اللہ تعالیٰ سے پوری امید ہے کہ کامیاب ہوں گے اور دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے، وزیر داخلہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ اجلاس میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے براہ راست رابطے ہیں، اس حوالے سے جب کہا جائے گا مکمل ثبوت فراہم کردیے جائیں گے۔

محسن نقوی نے کہا کہ یہ کہنا کہ وفاق کا فیصلہ غلط اور خیبر پختونخوا حکومت کا فیصلہ درست ہے، مناسب نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے بہت سے لوگ ٹی ٹی پی سے ملے ہوئے ہیں اور سوال اٹھایا کہ کیا تمام معاملات کو مراد سعید نے سبوتاژ نہیں کیا؟ وزیراعلیٰ مراد سعید سے فیصلے کیوں لے رہے تھے؟

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے پوری امید ہے کہ وہ کامیاب ہوں گے اور دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔ حکومت نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلے گی اور اس کا مقصد صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔

انہوں نے 25 نومبر کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب دھاوا بولا جارہا تھا تو پی ٹی آئی کو جگہ دینے کی پیشکش کی گئی تاہم ان کی جانب سے کہا گیا کہ فون پر بات کرائی جائے اور دھرنا مؤخر کرنے کے حوالے سے بات چیت کی جائے۔

محسن نقوی کے مطابق فون پر بات ہوئی تو پارٹی کے آدھے لوگوں نے کہا کہ وہ یہ بات مانتے ہی نہیں۔ بعد ازاں کہا گیا کہ ویڈیو پیغام ریکارڈ کرایا جائے گا تو بات مانی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کو بلایا اور کہا کہ وہ جاکر ویڈیو پیغام ریکارڈ کرلیں۔ دو گھنٹے انتظار کیا گیا جس کے بعد کہا گیا کہ پیغام ریکارڈ کرایا جائے گا۔ پھر کہا گیا کہ بیرسٹر گوہر کے موبائل پر پیغام ریکارڈ کرائیں گے، اس کے بعد کہا گیا کہ سلاخوں کے پیچھے جاکر پیغام ریکارڈ کرایا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات بھی ان کے سامنے تھے۔ جب سلاخوں کے پیچھے گئے تو کہا گیا کہ آج پیغام ریکارڈ نہیں کراؤں گا۔ ان تمام تجربات کے باوجود پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر مذاکرات کیے گئے اور مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی سے رابطہ بھی کیا گیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ انہیں ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے بلکہ متعلقہ افراد اپنے اندر دیکھیں کہ کن لوگوں نے پارٹی اور حکومت کو اس مقام تک پہنچایا۔ ان کے بقول چند لوگوں نے سب کو نقصان پہنچایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے اپنی طرف سے جس حد تک جاسکتے تھے گئے۔ حقائق پر بات کی جائے اور دوسری چیزوں کو سامنے نہ لایا جائے۔

متعلقہ خبریں