پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ترقی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے اجلاس ہوچکے ہیں جب کہ سیکیورٹی اداروں کو درکار وسائل فراہم کرکے صوبے میں امن قائم کیا جائے گا۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی جس کا پہلا اجلاس گزشتہ روز ہوا جب کہ 11 رکنی کونسل کا اجلاس آج بھی منعقد ہوا۔ تمام ایڈوائزرز نے چارج سنبھال لیا ہے اور اب آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے حوالے سے بھی اجلاس بلایا گیا جب کہ صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا ہے۔ وفاق نے ہم پر اعتماد کیا ہے اور اس اعتماد پر پورا اترنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ پہلی ترجیح ہوگی جب کہ صوبے کی ترقی دوسری ترجیح ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ، پولیس کو تمام وسائل فراہم کریں گے
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ فوج، پولیس، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو باور کراتے ہیں کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو جس چیز کی ضرورت ہوگی، وہ فراہم کی جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبے کو درکار وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور پولیس کو 10 گاڑیاں بھی دی گئی ہیں۔ ایپکس کمیٹی کو بھی یقین دلایا گیا ہے کہ پولیس کو جتنے فنڈز درکار ہوں گے، فراہم کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے 12 اضلاع کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جائیں گے تاہم فی الحال مکمل آپریشن کی ضرورت نہیں، ضرورت پڑنے پر یہ اقدام کیا جائے گا۔
گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صوبے کے عوام کی جنگ ہے اور اسے مل کر لڑیں گے۔ جنگیں فوجیں نہیں بلکہ قومیں لڑتی ہیں۔ ہمارے لوگوں کا خون بہہ رہا ہے، ہم کب تک شہداء کے جنازے اٹھاتے رہیں گے؟
انہوں نے کہا کہ پولیس کی تنخواہیں کم نہیں ہوں گی، اس حوالے سے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو احکامات جاری کرنے کا کہا ہے۔ شہداء پیکج میں اضافہ کیا جائے گا اور شہداء کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کریں گے۔
وزیراعظم جلد خیبر پختونخوا کا دورہ کریں گے، ترقیاتی منصوبے مکمل کریں گے
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعظم بہت جلد خیبر پختونخوا کا دورہ کریں گے اور صوبے کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرا چکے ہیں۔ اب وہ زمانہ گزر گیا جب وفاق اور صوبے کے درمیان رابطہ کاری نہیں ہوتی تھی، وفاق سے خیبر پختونخوا کا مقدمہ دلائل کے ساتھ لڑیں گے، گالم گلوچ سے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے کئی منصوبے سرد خانے میں ڈال دیے گئے تھے، انہیں مکمل کیا جائے گا۔ ہماری توجہ امن اور ترقی پر ہے اور عوام کو امید دلانے کے لیے 24 گھنٹے کام کرنا ہوگا۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ تاجروں کے مسائل مل کر حل کیے جائیں گے، خواتین اور نوجوانوں کو خودمختار بنایا جائے گا جبکہ نوجوانوں کے روزگار کے مسائل حل کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ امن ہوگا تو لوگ کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے آئیں گے۔
سہیل آفریدی محفوظ ہاتھوں میں ہیں، کرپشن پر کارروائی ہوگی
سہیل آفریدی سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ان کا اسٹیٹس آف لائن ہے اور وہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق جن افراد کے خلاف کیسز ہیں، وہ ان کا سامنا کریں گے جب کہ جن کے خلاف کوئی کیس نہیں، انہیں رہا کردیا جائے گا۔
گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کے خلاف کیس ہوگا تو انہیں سامنا کرنا پڑے گا۔ جس نے کرپشن کی ہوگی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی، چاہے وہ بڑا عہدیدار ہو یا چھوٹا، کارروائی کے ساتھ ریکوری بھی کی جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی نے احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں گے جب کہ یونیورسٹی اساتذہ کے مسائل بھی حل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے 13 سال کی مصیبت مسترد کردی ہے اور مختلف مقامات پر یوم نجات منایا گیا۔ لانگ مارچ کرنے والوں کا کنٹینر لاوارث کھڑا ہے، انتظار ہے کہ کوئی اسے لے جائے، ورنہ ٹی ایم اے لے جائے گا۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ وہ انتظار کر رہے تھے کہ کوئی گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کرنے آئے گا۔ ہماری پالیسیاں اسلام آباد سے آئیں گی، کابل اور جلال آباد سے نہیں۔ مشکلات ضرور ہیں لیکن مایوسی گناہ ہے، صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔














