Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر کے دعوے

کراچی سے ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے جامعہ کے سابق طلبہ آج بھی اپنی مادر علمی کا قرض اتار رہے ہیں

جامعہ کراچی کے آڈیو ویژول سینٹر میں آج ایک ایسی تقریب ہوئی جو اس ادارے کے مستقبل کے حوالے سے ایک امید کی کرن کہی جا سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں نے اکثر دیکھا ہے کہ وائس چانسلرز کی تقریریں صرف دعووں تک محدود رہتی ہیں، لیکن وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے آج محض اعلان نہیں کیا بلکہ ایک سمت متعین کی ہے۔ انہوں نے ڈائریکٹر فنانس کو ہدایت دی ہے کہ پچاس ملین روپے کا ایک انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا جائے، جس میں سے بیس ملین روپے فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز میں داخلوں کے فروغ کے لیے مختص ہوں گے اور باقی تیس ملین روپے ان نادار مگر ذہین طلبہ کی مدد کے لیے وقف ہوں گے جو وسائل کی کمی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ کوئی بھی باصلاحیت طالب علم صرف غربت کی وجہ سے یونیورسٹی کے دروازے سے باہر نہیں رہے گا۔

یہ اسکالرشپ تقسیم کی تقریب اسٹوڈنٹس فنانشل ایڈ آفس نے یونیورسٹی آف کراچی ایلومنائی ہیوسٹن ایسوسی ایشن امریکہ کے اشتراک سے منعقد کی تھی، اور یہ شراکت خود ایک کہانی سناتی ہے۔ کراچی سے ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے جامعہ کے سابق طلبہ آج بھی اپنی مادر علمی کا قرض اتار رہے ہیں، جبکہ یہاں ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید، کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول کے اسٹوڈنٹ ایڈوائزر ڈاکٹر صہیب الزماں، شعبہ ریاضی کے ڈاکٹر محمد ایاز اور یوکا ہا کے کراچی چیپٹر کے نمائندے فیروز اقبال جیسے اساتذہ اور منتظمین اس بات کے گواہ تھے کہ اگر ادارہ نیت کر لے تو وسائل کہیں سے بھی آ سکتے ہیں۔ اصل چیلنج اب اس فنڈ کی شفافیت اور تسلسل کا ہے۔ پچاس ملین کا یہ فنڈ اگر صرف ایک تقریب کی زینت بن کر رہ گیا تو اس کی کوئی وقعت نہیں، لیکن اگر اسے دیانت داری سے چلایا گیا، میرٹ کو اس کا واحد معیار بنایا گیا اور سابق طلبہ کے اس تعاون کو ادارہ جاتی شکل دی گئی تو یہ جامعہ کراچی کے ان ہزاروں طلبہ کے لیے زندگی بدل دینے والا قدم ہو سکتا ہے جو ہر سال فیس نہ ہونے کی وجہ سے خواب ادھورے چھوڑ دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں