پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کے اختیار کو ختم کرنے یا اس کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند طاقتور ممالک کا اس اختیار پر اجارہ دارانہ کنٹرول عالمی ادارے کی مؤثریت اور ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ پاکستان کے مطابق سلامتی کونسل میں مزید مستقل ارکان اور ویٹو کے اختیارات میں اضافہ عالمی نظام میں عدم مساوات کو مزید گہرا کرسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ویٹو کے استعمال سے متعلق مباحثے کے دوران پاکستان مشن کے کونسلر اور سیاسی رابطہ کار گل قیصر سروانی نے مؤقف اختیار کیا کہ سلامتی کونسل کے مستقل پانچ ارکان امریکا، روس، چین، فرانس اور برطانیہ کو حاصل غیر معمولی اختیارات پورے اقوام متحدہ کے نظام میں ان کے اثر و رسوخ کو بڑھاتے ہیں، جبکہ ویٹو کا غلط استعمال عالمی امن و سلامتی کے لیے قائم ادارے کی فیصلہ سازی میں رکاوٹ بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو زیادہ مؤثر، منصفانہ اور جمہوری بنانے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں، تاہم اصلاحات کے نام پر مزید مستقل ارکان کو ویٹو کا اختیار دینا مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔ پاکستان کے نزدیک اس اقدام سے تاریخی مراعات برقرار رہیں گی، طاقت کے نئے مراکز قائم ہوں گے اور ادارے کے مفلوج ہونے کے خدشات بڑھ جائیں گے۔
گل قیصر سروانی نے واضح کیا کہ پاکستان اور اٹلی کی قیادت میں قائم گروپ ’یونائٹنگ فار کنسینسس‘ (UfC) سلامتی کونسل میں کسی نئے ملک کو انفرادی مستقل نشست دینے کی مخالفت کرتا ہے۔ یہ مؤقف بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان کی جانب سے سلامتی کونسل میں مستقل نشستیں حاصل کرنے کی کوششوں کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستانی نمائندے نے کہا کہ ویٹو کے اختیار کو یا تو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے یا کم از کم اس کے استعمال کو سختی سے محدود کیا جائے۔ ان کے مطابق مستقل ارکان کے اختیارات میں مزید توسیع کے بجائے منتخب ارکان کی تعداد اور کردار بڑھانے، کونسل میں زیادہ وسیع علاقائی نمائندگی یقینی بنانے اور فیصلوں کی منظوری کے طریقہ کار میں تبدیلی جیسے اقدامات پر توجہ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ منتخب ارکان کی نمائندگی بڑھانے اور فیصلہ سازی کے لیے درکار حمایت کے معیار میں تبدیلی سے ویٹو کے منفی اثرات کو متوازن کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے مطابق اصلاحات کا مقصد سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری بنانا اور چند ممالک کی جانب سے فیصلوں کو روکنے کی صلاحیت پر مؤثر نگرانی قائم کرنا ہونا چاہیے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 76/262 کی حمایت کا بھی اعادہ کیا، جسے اپریل 2022 میں منظور کیا گیا تھا۔ اس قرارداد کے تحت سلامتی کونسل کے کسی مستقل رکن کی جانب سے ویٹو استعمال کیے جانے کے بعد جنرل اسمبلی کا اجلاس 10 کام کے دنوں کے اندر بلایا جاتا ہے، تاکہ متعلقہ فیصلے اور ویٹو کے جواز پر رکن ممالک کو بحث کا موقع مل سکے۔
ویٹو پر بحث کو عالمی احتساب کا ذریعہ بنانے پر زور
اجلاس کے آغاز پر جنرل اسمبلی کے صدر اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے خلیل الرحمان نے کہا کہ ویٹو سے متعلق اقدام کے تحت اب تک 21 اجلاس منعقد ہوچکے ہیں اور یہ طریقہ کار اقوام متحدہ میں شفافیت، جواب دہی اور اجتماعی ذمہ داری کے اظہار کا ایک مستقل ذریعہ بن گیا ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کی جانب سے جنرل اسمبلی کو بروقت خصوصی رپورٹس فراہم کرنے اور مستقل ارکان کی مباحثوں میں شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس وقت سب سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے جب جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے منشور کے تحت اپنی الگ مگر ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی ذمہ داریاں توازن کے ساتھ ادا کریں۔
خلیل الرحمان نے خبردار کیا کہ سلامتی کونسل کی فیصلہ سازی میں ناکامی کا سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے جو پہلے ہی جنگ، عدم تحفظ، تشدد اور انسانی بحرانوں سے متاثر ہیں۔ ان کے مطابق جب کونسل بروقت اور فیصلہ کن اقدامات کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کی قیمت عام شہریوں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ سلامتی کونسل کے ارکان امن کے لیے فیصلہ کن اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کرسکیں گے، تاکہ ویٹو سے متعلق خصوصی اجلاسوں کی ضرورت کم سے کم رہ جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مباحثوں کو محض بار بار دہرائی جانے والی کارروائی نہیں بننا چاہیے، بلکہ انہیں سفارتی رابطوں اور بامعنی مکالمے کو آگے بڑھانے میں مدد دینی چاہیے۔
جنرل اسمبلی کے صدر نے زور دیا کہ کسی بھی ویٹو کو مکالمے اور سفارت کاری کے خاتمے کا سبب نہیں بننا چاہیے اور عالمی امن کی کوششوں میں اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی رہنمائی برقرار رہنی چاہیے۔
بعد ازاں مختلف ممالک کے نمائندوں نے سلامتی کونسل میں ویٹو کے موجودہ نظام اور مستقبل میں اس کے ممکنہ اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مندوبین نے نشاندہی کی کہ کونسل کے اندر ہونے والے فیصلے صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا کے دور دراز خطوں میں امن، سلامتی اور انسانی حالات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ سلامتی کونسل میں حقیقی اصلاحات کا محور طاقتور ممالک کے اختیارات میں اضافہ نہیں، بلکہ نمائندگی میں وسعت، فیصلہ سازی میں توازن اور ویٹو کے استعمال پر مؤثر پابندیاں ہونا چاہیے، تاکہ عالمی ادارہ بین الاقوامی تنازعات کے حل اور امن کے قیام میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکے۔

















