27 اکتوبر 1947 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے داخلے کے خلاف آج آزاد جموں و کشمیر سمیت دنیا کے مختلف شہروں میں یومِ سیاہ کے طور پر منایا جا رہا ہے جبکہ احتجاجی مظاہرے بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر مہاجرین جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کے عوام بھارتی فوجی قبضے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ آزاد کشمیر کے تمام ضلعی صدر مقامات پر مظاہرے ہوں گے، جبکہ دارالحکومت مظفرآباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس اور حکومت آزاد کشمیر کے اشتراک سے یومِ سیاہ کی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔
یومِ سیاہ کے موقع پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے اور بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا جائے گا۔ کشمیریوں کی جانب سے بھارتی فوجی قبضے کے خاتمے، ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور حقِ خودارادیت کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔
لندن، برمنگھم، بریڈفورڈ، مانچسٹر اور ٹورنٹو سمیت مختلف عالمی شہروں میں مقیم کشمیری بھی احتجاجی مظاہرے کریں گے۔
اس موقع پر عالمی برادری سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دلانے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ کشمیریوں کا مؤقف ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مبینہ بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے اور آزادی کی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم برقرار ہے۔

















