Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی تیاری، چینی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

چینی ٹیکنالوجی اور پاکستانی کاروباری صلاحیتوں کو یکجا کرکے سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر محمد ذکریا اکبر ضیاء نے پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی تیاری، دو پہیوں والی برقی گاڑیوں کی مقامی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے پاکستانی کاروباری اداروں اور چین کی کمپنی ووکسی شینگ باؤ وہیکل مینوفیکچرنگ کمپنی لمیٹڈ (Wuxi Shengbao Vehicle Manufacturing Co., Ltd.) کے درمیان مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون سے سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات کے فروغ کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

جمعرات کو چیمبر ہاؤس اسلام آباد میں چینی کاروباری وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے، جس کی قیادت مسٹر یانگ زونگ کر رہے تھے، آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں، اسکوٹرز اور سائیکلوں کی تیاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے چینی کمپنی پر زور دیا کہ وہ پاکستانی کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر موٹر سائیکلوں کی اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق و ترقی اور پرزہ جات کی بتدریج مقامی تیاری کے شعبوں میں تعاون کرے۔ وفد میں چینگ زونگ، چنگ زونگ اور محمد عارف بھی شامل تھے۔

محمد ذکریا اکبر ضیاء نے کہا کہ پاکستان اور چین کے معاشی تعاون کو تیار شدہ مصنوعات کی درآمد و فروخت تک محدود رکھنے کے بجائے پائیدار صنعتی شراکت داری کی جانب بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور دیگر دو پہیوں والی گاڑیوں کی مقامی تیاری سے تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد پر انحصار کم کرنے، ملکی سپلائی چین مضبوط بنانے، تکنیکی مہارتوں کو فروغ دینے اور نوجوانوں کے لیے ہنرمندانہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تعاون کے ذریعے پاکستان کو علاقائی اور عالمی منڈیوں کے لیے ایک اہم پیداواری مرکز بنانے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے چینی وفد کو یقین دلایا کہ آئی سی سی آئی پاکستانی صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ روابط قائم کرنے، موزوں کاروباری شراکت دار تلاش کرنے اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل عملی مشکلات دور کرنے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا۔

آئی سی سی آئی کے صدر نے چینی کمپنی کو چیمبر کی آئندہ ایکسپو اور اس کے ڈسپلے سینٹر میں اپنی الیکٹرک موبلٹی مصنوعات کی نمائش کی پیشکش بھی کی، تاکہ پاکستانی مارکیٹ میں ان مصنوعات کو متعارف کرانے، ممکنہ کاروباری شراکت داروں سے روابط بڑھانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کو موٹر سائیکلوں کی مقامی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، صنعتی سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے ذریعے ٹھوس معاشی نتائج میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اجلاس کے دوران مسٹر یانگ زونگ نے کمپنی کے اوپائی (OPAI) برانڈ کی دو پہیوں والی گاڑیوں کی مصنوعات متعارف کرائیں اور شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے۔ انہوں نے پاکستان میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے اور مصنوعات کی مقامی تیاری میں کمپنی کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی پیداوار کے ساتھ دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں برآمدات کے امکانات کو بھی پیش نظر رکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس تعاون سے مقامی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت میں اضافہ، سپلائی چین کی مضبوطی، کارکنوں کی تکنیکی تربیت اور پاکستانی افرادی قوت کی مہارتوں میں بہتری ممکن ہو سکے گی۔

آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر محمد اشفاق چٹھہ نے بھی دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان روابط اور صنعتی تعاون کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شراکت داریاں دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے لیے باہمی فائدے کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی ٹیکنالوجی اور پاکستانی کاروباری صلاحیتوں کو یکجا کرکے سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر آئی سی سی آئی کی ایگزیکٹو کمیٹی کی اراکین محترمہ صدف عاصم عباسی اور محترمہ نگینہ خلیق، سید عمران بخاری، جبکہ چیمبر کے اراکین ڈاکٹر شاہد ظفر، مامون شفقت، ظفر شہزاد اور آصف جاوید نے سوال و جواب کی نشست میں حصہ لیا اور ممکنہ کاروباری تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ دیگر نمایاں شرکاء میں راشد طفیل، محمد عارف، آئی سی سی آئی کے سینئر اراکین وسیم چوہدری اور ساجد اقبال سمیت دیگر کاروباری نمائندے شامل تھے۔