وزارت خزانہ نے مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان میں معاشی بحالی کی توقع ظاہر کرتے ہوئے اکتوبر 2026 میں مہنگائی کی شرح 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کی پیشگوئی کردی ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق زرعی پیداوار میں بہتری، تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے اور بعض بڑی صنعتوں کی پیداوار بڑھنے سے ملکی معیشت کو سہارا ملنے کا امکان ہے۔ تاہم صنعتی شعبے کی کارکردگی یکساں نہیں اور مختلف صنعتوں کے نتائج میں فرق موجود ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فصلوں کی بہتر پیداوار سے دیہی علاقوں میں آمدنی بڑھنے اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ زرعی پیداوار میں اضافے سے فوڈ پروسیسنگ کی صنعت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں میں بہتری معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مشینری کی درآمد میں اضافے سے ملکی پیداواری صلاحیت بہتر ہونے اور چند بڑی صنعتوں کی پیداوار بڑھنے کا امکان ہے۔ اسی طرح ترسیلات زر اور خدمات کی برآمدات میں اضافے کی توقع ہے، جو ملکی آمدنی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ رپورٹ میں مضبوط زرمبادلہ ذخائر کو معیشت کے لیے سہارا قرار دیا گیا ہے۔
مہنگائی کے حوالے سے وزارت خزانہ نے بتایا کہ ستمبر 2026 میں افراط زر کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم اکتوبر میں مہنگائی کی سطح کا انحصار عالمی توانائی کی قیمتوں اور ملک میں خوراک کی دستیابی پر ہوگا۔ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور غذائی اشیا کی فراہمی میں تبدیلیاں آئندہ مہینوں میں مہنگائی کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کی توجہ ٹیکس وصولیوں میں اضافے، سرکاری اخراجات پر قابو پانے اور ٹیکس نظام کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ توانائی کے مؤثر استعمال اور سرکاری اداروں میں اصلاحات کے ذریعے پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
وزارت خزانہ نے بجٹ سرپلس کو معاشی استحکام کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کم آمدنی والے طبقوں کی معاونت کے اقدامات بھی جاری رکھے جائیں گے، تاکہ معاشی اصلاحات کے دوران ضرورت مند افراد کو سہارا فراہم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں مجموعی طور پر مالی سال 2026-27 کے دوران معاشی بحالی کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں، تاہم مہنگائی میں مزید کمی، صنعتی پیداوار میں بہتری اور معاشی استحکام کا انحصار عالمی حالات، زرعی کارکردگی اور حکومتی مالیاتی اقدامات کے نتائج پر ہوگا۔


















