امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے ملکی سیاست میں نئی تاریخ رقم کردی۔ مختلف ریاستوں میں غیر معمولی کامیابیوں کے ساتھ نئے چہرے امریکی سیاست میں ابھر کر سامنے آئے ہیں جبکہ کئی اہم عہدوں پر پہلی بار خواتین، سیاہ فام، مسلمان اور دیگر اقلیتی امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔
امریکی سینیٹ، ایوانِ نمائندگان اور گورنر کے انتخابات میں سامنے آنے والے نتائج نے روایتی سیاسی منظرنامے کو تبدیل کردیا ہے۔ متعدد امیدواروں نے اپنی کامیابی کے ساتھ نئے انتخابی ریکارڈ بھی قائم کیے ہیں۔
جارجیا اور فلوریڈا میں سیاہ فام گورنرز کی کامیابی
ریاست جارجیا میں ڈیموکریٹک امیدوار کیشا لانس باٹمز نے ری پبلکن امیدوار رک جیکسن کو شکست دے کر گورنر کا انتخاب جیت لیا۔ وہ جارجیا کی پہلی خاتون اور امریکا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوگئی ہیں۔
دوسری جانب فلوریڈا میں ری پبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز نے ڈیموکریٹ امیدوار ڈیوڈ جولی کو شکست دے کر گورنر کا انتخاب جیت لیا۔ وہ ریاست کے پہلے سیاہ فام گورنر منتخب ہوئے ہیں۔
ان نتائج کے ساتھ بائرن ڈونلڈز، ویس مور اور کیشا لانس باٹمز کی کامیابی کو امریکی سیاست میں سیاہ فام گورنرز کی نمائندگی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سینیٹ میں بھی نئے ریکارڈ قائم
نیو ہیمپشائر سے ڈیموکریٹک امیدوار کرس پاپاس نے ری پبلکن امیدوار جان سنونو کو شکست دے کر امریکی تاریخ کے پہلے کھلے عام ہم جنس پرست سینیٹر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔
ساؤتھ کیرولائنا میں ڈیموکریٹک امیدوار اینی اینڈریوز نے سینیٹ کا انتخاب جیت کر ریاست کی پہلی خاتون سینیٹر ہونے کا اعزاز حاصل کیا تاہم انہوں نے ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار ڈارلین گراہم کو شکست دی۔
ٹیکساس میں ڈیموکریٹک امیدوار جینا ہیناہوسا نے ری پبلکن گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی اور ریاست کی پہلی ہسپانوی نژاد خاتون گورنر منتخب ہوئی ہیں۔ 1990 میں این رچرڈز کے بعد وہ ریاست کی پہلی ڈیموکریٹ خاتون گورنر بھی بن گئی ہیں۔
کانگریس میں خواتین اور نوجوان امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں
ریاست کولوراڈو سے 29 سالہ ڈیموکریٹک امیدوار ملات کیروس نے کامیابی حاصل کرکے ریاست کی پہلی سیاہ فام خاتون رکنِ کانگریس ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ ملات کیروس کی کامیابی کو امریکی سیاست میں نئی نسل کی نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ جنریشن زی کی نمائندگی کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان کی کم عمر ترین ارکان میں شامل ہوگئی ہیں۔
ریاست اوہائیو میں ڈیموکریٹک امیدوار ڈاکٹر ایمی ایکٹن نے ری پبلکن امیدوار وویک راماسوامی کو شکست دے کر گورنر کا انتخاب جیت لیا۔ وہ اوہائیو کی پہلی خاتون گورنر منتخب ہوئی ہیں۔
کیلیفورنیا میں ڈیموکریٹک امیدوار زیویئر بیکرا نے کامیابی حاصل کرکے ریاست کے پہلے لاطینی نژاد گورنر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
امریکی کانگریس میں مسلمان امیدواروں کی کامیابی
ریاست نیو جرسی سے ڈیموکریٹک امیدوار ڈاکٹر آدم حموی نے کامیابی حاصل کرکے ریاست کے پہلے مسلمان رکنِ کانگریس منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ امریکی فوج میں سابق سرجن کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے آدم حموی صحت کے شعبے میں اصلاحات اور سب کے لیے طبی سہولتوں کی فراہمی کے حامی ہیں۔
ڈاکٹر آدم حموی غزہ کے طبی مشن میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کی کامیابی پر مسلم برادری اور حامیوں میں خوشی کا اظہار کیا گیا۔
دوسری جانب مشی گن سے ڈیموکریٹک امیدوار عبدالسید نے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر سینیٹ کا انتخاب جیت لیا۔ وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان اور عرب نژاد امریکی سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔
نیویارک میں ریڈ انڈین امیدوار کی کامیابی
نیویارک سے ڈیموکریٹک امیدوار کلیئر والڈیز نے کامیابی حاصل کرکے ریاست کی پہلی مقامی امریکی (ریڈ انڈین) خاتون رکنِ کانگریس ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کی حمایت کو بھی ان کی انتخابی کامیابی میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ 37ویں اسمبلی ڈسٹرکٹ کے بعد اب ان کی کامیابی نے امریکی ایوانِ نمائندگان میں بھی نئی تاریخ رقم کردی ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں پہلی سیاہ فام اسپیکر کا امکان
امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز کی کامیابی بھی اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، وہ ایوان کے پہلے سیاہ فام اسپیکر بننے کے لیے میدان میں ہیں جس سے امریکی پارلیمانی تاریخ میں ایک اور نیا ریکارڈ قائم ہونے کا امکان ہے۔
ڈیموکریٹس نے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی
واضح رہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ری پبلکن پارٹی کو شکست دے کر دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی جس کے نتیجے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھو بیٹھی۔
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے 220 نشستیں حاصل کیں جبکہ ری پبلکن پارٹی کے حصے میں 126 نشستیں آئیں۔
سینیٹ کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس نے 52 نشستیں جیت کر اکثریت حاصل کرلی جبکہ ری پبلکن پارٹی 40 نشستیں حاصل کرسکی۔
متعلقہ خبر: ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست؛ ڈیموکریٹس نے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی




















