ماہرین آثار قدیمہ نے نئی زبان دریافت کر لی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکی کے قدیم تاریخی شہر ہاتوسا کے کھنڈرات سے ماہرین آثار قدیمہ نے ایک نئی زبان دریافت کی ہے۔
ماہرین آثار قدیمہ کو 30 ہزار کے قریب مٹی کی تختیاں ملیں جس پر قدیم زمانے میں لکھائی کی جاتی تھی۔ ان تختیوں پر اناطولیہ کی تاریخ، روایات اور اس وقت کے معاشرے کی تفصیلات موجود ہیں۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کی جانب سے دریافت کی جانے والی زیادہ تر تختیاں ہٹائٹ زبان میں لکھی گئی ہیں جو سب سے پُرانی ہند یورپی زبانوں میں سے ایک ہے۔
ماہرین کو معلوم نہیں کہ ان مخصوص تختیوں پر کیا لکھا ہوا ہے تاہم اُنہوں نے تصدیق کی ہے کہ یہ زبان اناطولیہ کے ہند یورپی خاندان میں بولی جانے والی زبان ہے اور ہند یورپی زبانیں زبانوں کا ایک بڑا خاندان بناتی ہیں جس نے یورپ اور برصغیر پاک و ہند کے بہت سے جدید ممالک کو گھیرا ہوا ہے۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ پروٹو-ہند-یورپی زبان ممکنہ طور پر بحیرہ اسود کے ارد گرد شروع ہوئی تھی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















