سفید ریت پر نیلے سمندر کا منظر کسے پسند نہیں تاہم جاپان کا ساحل سفید ریت کی بنا پر مقبول نہیں بلکہ وہ ہزاروں مچھلیوں کی ہڈیوں سے ڈھکے ہونے کی بنا پر سفید دکھائی دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے فش بون بیچ کا نام دیا گیا ہے۔
جاپان کے ہوکائیڈو پریفیکچر کے ہاکوڈیٹ شہر کے ساحل کا ایک حصہ مچھلی کی ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کی موٹی تہہ سے ڈھکا ہوا ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں، ہوکائیڈو میں ہزاروں ٹن مردہ مچھلیاں ساحل پر جمع ہوگئی تھی۔ مچھلیوں کی اتنی بڑی تعداد میں مرنے کی وجہ فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ سے ٹریٹد شدہ پانی کا سمندر میں چھوڑے جانا تھا۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہ پانی سمندر میں 600 میل دور چھوڑا گیا تھا، تاہم کئی ماہرین نے اس بات کو مکمل طور پر غلط قرار دیا۔
ان مردہ مچھلیوں میں تقریباً 80 فیصد سارڈینز اور باقی چھوٹی مچھلیوں کی دیگر اقسام جیسے میکریل تھی۔ یہ مردہ مچھلیاں ہاکوڈیٹ کے ساحل کے قریب 1.5 کلومیٹر کے رقبے تک جمع ہوگئی۔ مقامی حکومت نے ساحل پر جمع ہونے والی مردہ مچھلیوں کو ہٹانے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے تاہم انہیں توقع نہیں تھی کہ مچھلی کی ہڈیاں ساحل سمندر کو ایک حقیقی مچھلی کے قبرستان میں بدل دیں گی۔
جاپانی ٹیلی ویژن نے حال ہی میں ہاکوڈیٹ میں ساحل سمندر کے 400 میٹر لمبے حصے کی ایک ویڈیو بنائی ہے جو دور سے ہی برف کی چادر سے ڈھکی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
لیکن جیسے ہی کیمرے کو زوم کیا جاتا ہے تو واضح ہوتا ہے یہ برف نہیں بلکہ سفید مچھلی کی ہڈیوں کی ایک موٹی تہہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڈیوں کو ہٹانا مشکل ہوسکتا ہے، کیونکہ وہ اس ریت میں مل گئی ہیں۔
گزشتہ ماہ 4 جنوری یعنی مردہ مچھلی کے اس واقعے کے تقریباً ایک ماہ بعد، مچھلی کی ہڈیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ساحل سمندر کو ڈھانپ دیا اسی لیے اس کا نام فش بون بیچ پڑ گیا ہے۔
مقامی حکام کے پاس ان مچھلی کی ہڈیوں کو ہٹانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے جبکہ علاقے کا درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے کوئی بو محسوس نہیں ہورہی، تاہم درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے بو پیدا ہوسکتی ہے۔




















