برطانیہ میں ایک خاتون کو صرف اس لئے نوکری سے نکال دیا گیا کیوںکہ اُس نے آفس کے میٹنگ روم میں بچا ہوا سینڈوچ کھا لیا تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایکواڈور سے تعلق رکھنے والی خاتون گیبریلا روڈریگز لندن کی ایک معروف قانونی فرم میں صفائی کا کام کرتی ہیں، انہوں نے اس کمپنی میں 2 سال تک کام کیا لیکن اُن کو بچا ہوا سینڈوچ کھانے پر نوکری سے ہی فارغ کر دیا۔

گیبریلا نے 1.50 یورو (455 پاکستانی روپے) مالیت کا ٹونا مچھلی کا سینڈوچ یہ سوچ کر کھایا تھا کہ شاید اسے وکلا کی میٹنگ کے بعد پھینک دیا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ خاتون کی برطرفی کے خلاف احتجاج کرنے اور اس کی بحالی کے لیے یونین کے کئی کارکن 14 فروری کو لا فرم کے دفتر کے باہر ‘ٹونا مچھلی کے 100 کین، 300 ہاتھ سے لپٹے ہوئے سینڈوچ، کئی غبارے اور روڈریگز کے لیے محبت کے خطوط کے ساتھ جمع ہوئے۔
اس حوالے سے گیبریلا روڈریگز نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ عملے کو آفس کا بچا ہوا کھانا کھانے کی اجازت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دن میری شفٹ ختم ہو رہی تھی، میں نے بچا ہوا سینڈوچ دیکھا تو اٹھا لیا، اس واقعے کے ایک ہفتے بعد مجھے بلایا گیا اور نوکری سے نکال دیا گیا۔




















