تاریخ میں پہلی بار مس یونیورس کے آئندہ ہونے والے مقابلے میں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی ماڈل کے شامل ہونے کے امکانات ہیں۔
اس حوالے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تنظیم کی بین الاقوامی تعلقات کی کوآرڈینیٹر ماریا جوز انڈا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مس یونیورس آرگنائزیشن نے اس وقت سعودی عرب فرنچائز کے لیے ممکنہ امیدوار منتخب کرنے کے لیے جانچ پڑتال کا سخت عمل شروع کر رکھا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بہت جلد سعودی عرب کے نیشنل ڈائریکٹر کے بارے میں فیصلہ کر لیا جائے گا جس کے بعد سعودی عرب کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ ستمبر میں میکسیکو میں ہونے والے مقابلے کے اگلے ایڈیشن سے پہلے ایک امیدوار نامزد کر سکے۔
خیال رہے کہ یہ بیان سعودی ماڈل رومی القحطانی کے بیان کے بعد سامنے آیا جب انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر پوسٹ کے ذریعے مس یونیورس کے مقابلے میں سعودی عرب کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔
View this post on Instagram
اس پوسٹ میں ریاض سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ رومی القحطانی کی تصاویر بھی شامل تھیں۔
بعدازاں مس یونیورس ک جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں قحطانی کی پوسٹ کو ‘جھوٹا اور گمراہ کن’ قرار دیا اور کہا کہ خلیجی ریاست میں انتخاب کا کوئی عمل نہیں کیا گیاتھا۔




















