کسی بھی چیز کو گلو سے جوڑکر علحیدہ کرنا ایک مشکل طلب عمل ہے تاہم اب سائنسدانوں نے گلاب کے تیل سے ایک ایسا چپکنے والا مادہ تیار کیا جس سے چیزوں کو جوڑنا اورتوڑنا نہایت آسان ہے۔
یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں الیکٹرانکس اشیاء ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں جنہیں ری سائیکل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے الگ کرنا تقریباً ممکن نہیں ہوتا ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے سائنسدانوں نے گلاب کے تیل کا استعمال کرتے ہوئے ماحول دوست سوئچ ایبل گلو تیار کیا ہے، جسے بآسانی جوڑے کے بعد الگ بھی کیا جاسکتا ہے، یہ مادہ روشنی کی مختلف لہروں سے اپنی حالت بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ گلو نہ صرف آسانی سے ری سائیکل ہونے والے الیکٹرانکس میں استعمال ہو سکتا ہے بلکہ ماحول دوست بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی سائنسدانوں کا کمال؛ دنیا کی پہلی سائبورک مکھی تیار کرلی

پروفیسر کوانگ ان جیونگ اور ان کی ٹیم نے گلاب کے تیل سے نکالا جانے والا ایک خاص کیمیائی مادہ تیار کیا جسے ٹی اے کہا جاتا ہے۔ یہ مادہ یووی (الٹرا وائلٹ) روشنی کی موجودگی میں مائع بن جاتا ہے، جس سے اسے مختلف مواد پرآسانی سے لگایا جاسکتا ہے، جس کے بعد یہ ٹھوس شکل اختیار کرلیتا ہے اور شے جڑ جاتی ہے تاہم دوبارہ یووی روشنی کے ذریعے یہ ایک بار پھر مائع بن کر جڑی ہوئی چیزآزاد کر دیتا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس دوران اس گلوکے چپکنے کی صلاحیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔
یہ جدید گلو صرف الیکٹرانکس میں ہی نہیں بلکہ مستقبل میں پائیدار، دوبارہ استعمال ہونے والے پیکیجنگ اور دیگر جدید ایپلیکیشنز کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔




















