دنیا کے مشہور قدیم انسانی اجساد میں سے ایک، جسے محبت سے ’’لٹل فوٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ ممکنہ طور پر انسانی خاندان کا ایک نیا رکن ثابت ہوسکتا ہے۔
جنوبی افریقہ کے اسٹیرکفونٹین غار میں دریافت ہونے والا لٹل فوٹ انسانی نژاد کے قدیم اجداد کا سب سے مکمل ڈھانچہ ہے لیکن اس کی درست شناخت اور عمر کا تعین مشکل رہا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لٹل فوٹ آسترالوپتھی کس سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس کی نوع پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ اسے مشہور اے افریقانوس کی نوع مانتے ہیں جب کہ دریافت کنندگان نے اسے اے پرومی تھیوس میں شمار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
آسٹریلیا کی لا ٹروب یونیورسٹی کے ماہرِ ارتقا جسی مارٹن کی قیادت میں نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں تصنیفات درست نہیں۔
مارٹن کے مطابق ’’یہ نہ تو اے پرومی تھیوس ہے اور نہ ہی اے افریقانوس، یہ ممکنہ طور پر ایک نئی انسانی رشتہ دار نوع ہے جو ابھی تک نامعلوم ہے۔
نمونہ ایس ٹی ڈبلیو 573 کے نام سے معروف ہے اور اسے ’’لٹل فوٹ‘‘ اس لیے کہا گیا کیونکہ 1980 میں ابتدائی طور پر چار چھوٹے ٹخنے کی ہڈیاں دریافت ہوئیں۔ بعد ازایں ماہرِ ارتقا رونلڈ کلارک نے اسے آسترالوپتھی کس قرار دیا۔
1997 میں ٹیم نے غار میں باقی ڈھانچہ دریافت کیا جو دیوار میں جزوی طور پر دبایا ہوا تھا۔ اسے مکمل طور پر کھودنے میں 20 سال لگے۔
نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے لٹل فوٹ کا موازنہ اے افریقانوس کے دیگر نمونوں اور اے پرومی تھیوس کے واحد فوسل ایم ایل ڈی 1 سے کیا۔
ڈی 3 اسکیننگ سے ڈیجیٹل تجزیہ کرنے پر پانچ واضح فرق سامنے آئے جس کے بعد محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ لٹل فوٹ کسی نئی اور ابھی تک غیر دریافت شدہ نوع سے تعلق رکھتا ہے۔
ابھی اس نئی نوع کے لیے کوئی نام تجویز نہیں کیا گیا اور اس کا اعزاز ان ٹیموں کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے جنہوں نے دو دہائیوں سے لٹل فوٹ کی کھدائی اور تجزیہ کیا۔




















