Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آٹو رکشہ کی ریس، مزاحیہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ کھیل

اس ریس میں ٹیم کے اراکین کو ٹک ٹک کی رفتار اور زمین کی نوعیت کے مطابق اپنا وزن منتقل کرنا ہوتا ہے

گاڑی، بائیک اور سائیکل کی ریس تو آپ نے ضرور دیکھی ہوگی، تاہم رکشہ کی ریس کا سن کر یقیناً آپ ایک لمحے کے لیے ضرور مسکرائے ہوں گے۔

آٹو رکشہ ایک سادہ سی سواری ہے جو ٹریفک کے اژدھام  میں آپ کو کم قیمت میں منزل تک پہنچا دیتی ہے، یہی وجہ ہے یہ سواری دنیا بھر میں کافی مقبول ہے۔

ایشیا سے لے کر افریقہ اور جنوبی امریکہ تک یہ ٹک ٹک صرف سہولت فراہم کرنے کا ذریعہ ہی نہیں، بلکہ اسے چلانا مزے کا تجربہ بھی ہے۔

رکشہ ایک تیز رفتار سواری نہیں ہے دنیا کا سب سے تیزرفتار رکشہ صرف 81 کلومیٹر فی گھنٹہ (50 میل فی گھنٹہ) کی رفتارسے چل سکتا ہے، رفتار کم ہونے کے باوجود یہ ایک دلچسپ تجربہ فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا نے پاکستان میں سی جی 150 اور اپنی پہلی الیکٹرک بائیک متعارف کرادی، قیمت اور فیچرز جانیے

رکشہ کی ریس کا آغاز کب سے ہوا یہ تو معلوم نہیں، لیکن سری لنکا اور تھائی لینڈ جیسے ممالک میں یہ کھیل 2017 کے قریب مقبول ہونا شروع ہوا۔

2020 میں ریڈ بل ٹک اٹ نے دنیا بھر سے 200 ٹیموں کو جمع کیا اور 80 میل طویل ریس کا انعقاد کیا جس کا مقصد رکشہ کے سب سے بہترین چیمپئن کا انتخاب کرنا تھا۔

یہ ایونٹ عالمی سطح پر ٹک ٹک ریسنگ کو متعارف کرانے میں کامیاب رہا۔ اس کے بعد سے، ٹک ٹک ریسنگ سری لنکا اور تھائی لینڈ میں ایک سالانہ کھیل بن چکی ہے۔

ٹک ٹک ریس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے تین پہیوں والی سواری کو مشکل اور دشوار گزار راستوں سے گزارتے ہوئے اس کا توازن برقرار رکھیں۔

ریس میں کامیابی کے لیے ڈرائیور کی مہارت کے ساتھ ساتھ ٹیم کے اراکین کو بھی اپنے جسمانی وزن کا استعمال کرنا پڑتا ہے تاکہ ٹک ٹک کو گرنے سے بچایا جا سکے۔

اس ریس میں ٹیم کے اراکین کو ٹک ٹک کی رفتار اور زمین کی نوعیت کے مطابق اپنا وزن منتقل کرنا ہوتا ہے، ورنہ وہ خود بھی حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں، اگرچہ یہ گاڑیاں تیز نہیں ہوتی، مگر ان کے حادثے شدید چوٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔

اگر آپ کا کبھی سری لنکا یا تھائی لینڈ جانے کا اتفاق ہوتو اس ریس کو دیکھنا آپ کی فہرست میں ضرور شامل ہونا چاہیے۔ اگلا ایونٹ اکتوبر 2026 میں متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں