نیند کی افادیت سے کون واقف نہیں، انسان ہو یا جانور نیند سب کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے، یہاں تک ایسی مخلوقات جو انسانوں کی طرح دماغ نہیں رکھتی جیسے جیلی فش وہ بھی نیند لیتی ہے یہ بات حال ہی کی جانے والی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔
اسرائیل کی بار ایلان یونیورسٹی کی جانے والی تحقیق میں محققین نے دریافت کیا ہے کہ جیلٹن نما جسم لیے جیلی فش جس کے پاس نہ دماغ ہے اور فضلے کے اخراج کے لیے کوئی عضو وہ بھی دن کا ایک تہائی حصہ سو کر گزارتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے انسان نیند لیتے ہیں، حالانکہ ان کی جسمانی ساخت انسانوں سے بہت مختلف ہے۔
واضح رہے کہ جیلی فش کے جسم میں کوئی مرکزی دماغ نہیں ہوتا بلکہ ان کے اعصابی نیٹ ورک پورے جسم میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس سادہ اعصابی نظام کے باوجود، جیلی فش کو نیند میں مبتلا ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے، بالکل جیسے دوسرے جانداروں کو نیند آتی ہے۔
دوران نیند جیلی فش کے جسم کی حرکت اور ارد گرد سے آگاہی بھی کم ہوجاتی ہے، جس سے شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، ان سب کے باوجود جیلی فش رات کو سوتی ہے حیرت انگیز طور دن میں قیلولہ بھی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آکٹوپس نما دنیا کی سب سے بڑی جیلی فش
تحقیق کے دوران محققین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگر جیلی فش کو نیند سے محروم رکھا جائے تو ان کے اعصابی خلیات میں ڈی این اے کی خرابی بڑھ جاتی ہے، جو کہ لیبارٹری اور قدرتی حالات میں دونوں میں دیکھی گئی ہے، مزید یہ کہ اگر ان کا بیرونی ماحول اعصابی نقصان کا باعث بنتا ہے، تو جیلی فش کی نیند کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے یوں وہ زیادہ نیند لیتی ہے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نیند شاید خلیات کو نقصان سے بچانے کے لیے ارتقا کی ایک حکمت عملی ہے۔
تحقیق کے دوران جب جیلی فش کو میلاٹونن دیا گیا، تو وہ زیادہ نیند لینے لگیں اور ان کے ڈی این اے میں ہونے والی خرابی کم ہو گئی۔
محققین کا خیال ہے کہ جیلی فش اور دیگرکینیڈاریئنز بھی میلاٹونن کا استعمال کرتے ہیں، جیسے انسان کرتے ہیں، تاکہ ان کی نیند کا چکر دن رات کے چکر سے ہم آہنگ ہو سکے۔




















