Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

قدرت کا راز؛ مکڑیاں دشمنوں کو دھوکہ دینے کے لیے خود کی نقول تخلیق کرتی ہیں

پیرو اور فلپائن میں پائی جانے والی کچھ مکڑیوں نے خود کو دشمنوں سے بچانے کے لیے ایک نہایت منفرد اور حیرت انگیز طریقہ اختیار کیا ہے۔

دنیا بھر میں مکڑیوں کی کئی اقسام جال بناتی ہیں، کچھ باریک اور نازک جال تیار کرتی ہیں جب کہ کچھ وسیع اور پیچیدہ جالی دار ڈھانچے بناتی ہیں۔

تاہم پیرو اور فلپائن میں پائی جانے والی کچھ مکڑیوں نے خود کو دشمنوں سے بچانے کے لیے ایک نہایت منفرد اور حیرت انگیز طریقہ اختیار کیا ہے۔ یہ مکڑیاں ریشم، مردہ شکار اور آس پاس موجود ملبے کی مدد سے اپنی ہی خوفناک جسامت والی نقول تیار کرلیتی ہیں۔

ماہرینِ ماحولیات کے مطابق یہ مکڑیاں صرف جال کو سجاتی نہیں بلکہ انتہائی مہارت کے ساتھ ملبہ، شکار کے باقیات اور ریشم کو اس انداز میں ترتیب دیتی ہیں کہ ایک بڑی اور ڈراؤنی مکڑی کی شکل بن جائے۔

یہ نقلی ساخت اصل مکڑی کے مقابلے میں کئی گنا بڑی ہوتی ہے اور دشمن کو دھوکہ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

تحقیق کے دوران یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ جب کوئی خطرہ قریب آتا ہے تو اصل مکڑی اپنے جال کے دھاگوں کو ہلاکر اس نقلی مکڑی کو حرکت دیتی ہے جس سے یہ ایک زندہ اور خطرناک مکڑی کا تاثر دیتی ہے۔

پیرو میں پائی جانے والی یہ نقلی مکڑیاں اپنی اصل تخلیق کار مکڑی سے تین گنا بڑی دیکھی گئیں جب کہ اصل مکڑی کا قد چند ملی میٹر سے زیادہ نہیں ہوتا۔ ان نقول میں ٹانگوں جیسی ابھری ہوئی ساخت بھی شامل کی جاتی ہے جو دشمن کے لیے مزید خوف کا باعث بنتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حربہ خاص طور پر ان اڑنے والے شکاری حشرات سے بچاؤ کے لیے اختیار کیا گیا ہے جو جال بنانے والی مکڑیوں کا شکار کرتے ہیں لیکن بڑی جسامت والی مکڑیوں سے دور رہتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مادہ مکڑیاں اپنے انڈے اور بعض اوقات بچے بھی اسی نقلی ڈھانچے میں چھپا دیتی ہیں جس سے ان کی حفاظت ممکن ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ طرزِ عمل ارتقائی توازن کی ایک مثال ہے، جہاں مکڑیاں چھپنے کے بجائے دشمن کو بصری دھوکے سے دور رکھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہ دریافت نہ صرف مکڑیوں کی ذہانت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ قدرت کے حیران کن دفاعی نظام پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔

متعلقہ خبریں