کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ثابت کر دیا کہ اگر لگن اور سیکھنے کا جذبہ ہو تو روایتی تعلیم کے بغیر بھی کامیابی ممکن ہے۔
ٹوان لی نامی اس نوجوان نے صرف یوٹیوب کی مدد سے ویڈیو ایڈیٹنگ سیکھی اور چند ہی برسوں میں 14 لاکھ ڈالر مالیت کی کمپنی قائم کر کے سب کو حیران کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹوان لی کے پاس نہ کسی ادارے کی ڈگری تھی اور نہ ہی کاروباری دنیا کا کوئی تجربہ، مگر اس نے آن لائن ویڈیوز کو اپنا استاد بنا لیا۔
دن رات مشق کے بعد اس نے ویڈیو پروڈکشن میں ایسی مہارت حاصل کی کہ مقامی تاجروں کو کم معاوضے پر خدمات فراہم کر کے اپنی پہچان بنانا شروع کر دی۔
کاروبار کے پہلے سال اس کی آمدن محض 8 ہزار 500 ڈالر رہی، دوسرے سال یہ بڑھ کر 17 ہزار 400 ڈالر تک پہنچ گئی، مگر کووڈ وبا نے اس کے خوابوں کو جھٹکا دیا۔
لاک ڈاؤن کے دوران بیشتر کلائنٹس ختم ہو گئے اور تیسرے سال آمدنی کم ہو کر 12 ہزار 350 ڈالر رہ گئی، تاہم اس نوجوان نے ہمت نہیں ہاری۔
ٹوان لی نے اپنی تمام کمائی دوبارہ کاروبار میں لگائی اور ہزاروں کولڈ ای میلز کے ذریعے نئے کلائنٹس تلاش کیے۔ مسلسل کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسی سال کے اختتام تک اس کی آمدنی ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر تک جا پہنچی۔
چوتھے سال اس نے پہلا ملازم رکھا اور کمپنی کی مجموعی کمائی 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر ہو گئی، جبکہ پانچویں سال 15 افراد پر مشتمل ٹیم کے ساتھ بڑے برانڈز کے لیے کام کرتے ہوئے اس کی کمپنی کی آمدن 14 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔
ٹوان لی کی کہانی آج کے نوجوانوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ سیکھنے کا شوق، مستقل مزاجی اور محنت ہو تو یوٹیوب بھی کامیابی کی سیڑھی بن سکتا ہے۔




















