انٹرنیٹ کی دنیا ایک بار پھر ایک منفرد اور تھوڑا اداس ٹرینڈ کی لپیٹ میں ہے، جس کا مرکزی کردار ایک ”اکیلا پینگوئن“ ہے۔
یہ پینگوئن اپنے گروہ سے الگ ہو کر برفانی ویرانے کی جانب بڑھتا نظر آتا ہے اور یہی منظر آج کل سوشل میڈیا پر ”مایوس پینگوئن“ کے نام سے وائرل ہو چکا ہے۔
یہ ٹرینڈ ایک مختصر ویڈیو کلپ سے شروع ہوا، جس میں پینگوئن اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر انٹارکٹکا کے سنسان اور برف پوش پہاڑوں کی جانب بڑھتا ہے، حالانکہ اس کا قدرتی راستہ سمندر کی طرف ہوتا ہے۔
View this post on Instagram
یہ ویڈیو اصل میں جرمن فلم ساز ورنر ہرزوگ کی 2007 کی ڈاکیومنٹری Encounters at the End of the World کا حصہ ہے۔
ڈاکیومنٹری کے اس منظر میں دکھایا گیا ہے کہ پینگوئن اپنے گروہ سے الگ ہو کر ساحل کی بجائے اندرونی زمین کی سمت روانہ ہوتا ہے، جو پینگوئنز کی فطری عادات کے خلاف ہے۔
ہرزوگ نے اس غیر معمولی سفر کو اپنی آواز میں ”ڈیتھ مارچ“ قرار دیا، کیونکہ ماہرین کے مطابق اس سمت میں جانے والے پینگوئن کے زندہ بچنے کے امکانات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔
View this post on Instagram
سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے اسے انسانی جذبات کی علامت قرار دیا ہے جبکہ اسے اکیلے پن اور ہمت کی مثال کے طور پر شیئر کیا جارہا ہے۔




















