ایک ڈچ خاتون کو اپنے سابق بوائے فرینڈ کی جانب سے بنوائے گئے تقریباً 250 ٹیٹوز ختم کروانے کے لیے درجنوں تکلیف دہ سیشنز سے گزرنا پڑا جن میں اس کا نام اور ابتدائی حروف شامل تھے۔
بہت سی خواتین جذباتی لگاؤ کے تحت اپنے پارٹنرز کے نام یا ابتدائی حروف اپنے جسم پر ٹیٹو کرواتی ہیں تاہم کبھی کبھاریہ عمل جبراً بھی کیا جاتا ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ جرمنی کی ڈچ فاؤنڈیشن کے ذریعے منظر عام پر آیا میں پیش آیا جس میں ایک ڈچ خاتون کے جسم پر اس کے سابق بوائے فرینڈ نے بارہا اپنا نام اور ابتدائی حروف خود ٹیٹو کیے تاکہ اسے اپنی ملکیت کے طور پر ظاہر کر سکے۔
A woman goes viral after revealing that her partner forced her to get 250 tattoos of his name all over her body. love or control? 👀 pic.twitter.com/yCm2QAt7ex
— BAMs (@BAMsEnergy) April 14, 2026
متاثرہ خاتون جسے صرف ’’جوک‘‘ کہا جا رہا ہے نے برسوں یہ اذیت برداشت کی اور اس سے نمٹنے کے لیے شراب اور گولیوں کا سہارا لیا۔
جوک کے سابق بوائے فرینڈ نے آن لائن ایک سستی ٹیٹو مشین خریدی اور اس کے جسم پر تقریباً 250 ٹیٹوز بنا ڈالے جن میں ملکیت جیسے الفاظ، اس کا نام اور ابتدائی حروف شامل تھے جبکہ کچھ ٹیٹوز اس کے چہرے اور گردن پر بھی تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جلد پر ٹیٹو کی مقبولیت کم، اب کونسا ٹیٹو ٹرینڈ بن گیا
ڈچ اشاعت این ایل ٹائم نے جوک کی پہلے اور بعد کی تصاویر شائع کیں ہیں جن میں دکھایا گیا کہ اس کا چہرہ پہلے مکمل طور پر ٹیٹوز سے بھرا ہوا تھا جبکہ اب تقریباً صاف ہو چکا ہے۔
متاثرہ خاتون اور فاؤنڈیشن دونوں امید رکھتے ہیں کہ یہ چونکا دینے والی کہانی اس طرح کے دیگر متاثرین کو سامنے آنے اور مدد حاصل کرنے کی ترغیب دے گی۔
Aux Pays-Bas, Joke est l’égérie d’une campagne de la fondation Spijt van Tattoo, qui aide les femmes à effacer leurs tatouages. Pendant plusieurs années, cette Néerlandaise a été victime d’une relation toxique et destructrice. Son ex avait tatoué plus de 200 fois son prénom sur… pic.twitter.com/A0ADqDynxe
— 20 Minutes (@20Minutes) April 9, 2026
جوک نے فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر کہا جو لوگ گہرے زخم کھا چکے ہیں وہ دوبارہ کھڑے ہو سکتے ہیں اگر میں کر سکتی ہوں تو کوئی اور بھی کر سکتا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے سابق بوائے فرینڈ کی اس بدسلوکی کے خلاف کچھ کیا تو جوک نے بتایا کہ انہوں نے اسے ڈچ حکام کے پاس رپورٹ کیا لیکن اب تک اسے کوئی سزا نہیں ملی۔
جوک کو امید ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک اپنے تمام ٹیٹوز سے چھٹکارا پا لے گی لیکن ذہنی صدمے سے مکمل طور پر سنبھلنے میں شاید کئی سال لگیں گے۔




















