کیا آپ کبھی کسی پرانی عمارت میں داخل ہوئے ہیں اور بغیر کسی وجہ کے خوف یا بے چینی محسوس کی ہے؟ نئی تحقیق کے مطابق اس کیفیت کے پیچھے کوئی مافوق الفطرت وجہ نہیں بلکہ ایک سائنسی عنصر ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض عمارتوں میں بہت کم فریکوئنسی والی ایسی آوازیں موجود ہوتی ہیں جو انسان براہ راست سن نہیں سکتا لیکن جسم اور دماغ پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
یہ آوازیں عموماً پرانی پائپ لائنز، وینٹیلیشن سسٹمز اور مشینری سے پیدا ہوتی ہیں اور انہیں محسوس تو نہیں کیا جاسکتا مگر یہ انسانی مزاج کو متاثر کرسکتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ کم فریکوئنسی لہریں بعض اوقات قدرتی عوامل جیسے طوفان، زلزلے اور دیگر قدرتی واقعات سے بھی پیدا ہوتی ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ یہ آوازیں ماحول میں بہت دور تک پھیل سکتی ہیں اور انسان کے جسم پر دباؤ اور بے چینی پیدا کرسکتی ہیں۔
کینیڈا میں کی گئی ایک تحقیق میں 36 طلبہ کو شامل کیا گیا جنہیں مختلف حالات میں موسیقی سنائی گئی جب کہ کچھ افراد پر یہ کم فریکوئنسی آوازیں بھی چلائی گئیں۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے یہ آوازیں محسوس کیے بغیر سنی تو انہوں نے زیادہ چڑچڑاپن، بے چینی اور اداسی محسوس کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شرکاء کو یہ اندازہ بھی نہیں ہوسکا کہ ان پر کوئی اضافی آواز یا اثر ڈالا جارہا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ان افراد کے جسم میں اسٹریس ہارمون کی سطح میں اضافہ دیکھا گیا جو ذہنی دباؤ کی علامت ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اثرات مختصر وقت کے لیے ضرور سامنے آتے ہیں لیکن یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ماحول کی خاموش لہریں انسانی ذہن پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ انسان فطری طور پر ان لہروں کو خطرے کی علامت سمجھتا ہو، اسی لیے ایسی جگہوں پر غیر معمولی بے چینی محسوس ہوتی ہے۔




















