فروری 2023 میں ترسیلات زر میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ ایسوسی ایشن کے عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ جنوری 2023 میں 1.90 ارب ڈالرز کے مقابلے فروری 2023 میں 2 ارب ڈالرز موصول ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق بڑی خوشخبری؛ وزارت پیٹرولیم کا اہم اقدام
عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ جنوری میں ڈالر فری فلوٹ ہونے پر انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کا بڑا فرق ختم ہوچکا ہے ۔ اس کے باوجود اب بھی غیر قانونی چینل سے ترسیلات زر کا سلسلہ نہیں رک سکا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ سال 2021 میں 2 لاکھ 88 ہزار افراد بیرون ممالک نوکریوں کے لیے گئے تھے جبکہ سال 2022 میں 8 لاکھ 35 ہزار افراد بیرون ممالک نوکری کے لیے گئے۔
عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ اتنی زیادہ ورک فورس جانے کے باوجود ترسیلات زر میں اضافہ نہ ہونا سمجھ سے باہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے مطابق 2 ارب ڈالرز افغانستان اسمگل ہورہے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو ڈالر کی اسمگلنگ کو روکنا ہوگا۔پاکستان کو اس وقت ڈالر کے انفلوز کی اشد ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
عدنان پراچہ نے کہا کہ ڈالر کی قلت کو ایکسپورٹ اور ترسیلات زر سے ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپ اور چاپان میں نوکریوں کے بہت بڑے مواقع آئے ہیں۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو سے درخواست ہے کہ پاکستان اووسیز ایمپلائمنٹ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے نوکری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔



















