روس کی جانب سے آنے والے پیٹرول سے متعلق عوام کیلئے ایک اور بڑی خوشخبری آگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے چیئرمین سینیٹرعبدالقادر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روس سے عالمی منڈی کے مقابلے میں مہنگا اور ناقص تیل آنے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس سے ملنے والا تیل پچیس فیصد سستا پڑے گا اور سالانہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد کی بچت ہوگی۔
سینیٹرعبدالقادر نے کہا کہ پاکستان ریفائنزی لمیٹڈ کے پاس اسٹوریج کی کمی ہے، اس مسئلے کے باعث روس نے پاکستان کو فلوٹنگ اسٹوریج یونٹ لانے کی پیشکش بھی کی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے چیئرمین نے کہا کہ ہماری ریفائنریز نے روسی کروڈ آئل کو صاف کرنے کا طریقہ کار ڈھونڈ لیا ہے۔
سینیٹرعبدالقادر نے کہا کہ حکومت بروقت روس کے ساتھ تیل کی درآمد کے قواعد و ضوابط طے کرلے گی۔



















