بجلی کے بلوں کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات پر بھی ٹیکسز کی بھرمار کردی گئی ہے، ڈالر کی بے لگامی اور لیوی بڑھا کر عوام پر بے رحمانہ بوجھ ڈالا گیا ہے۔
پیٹرول پر ٹیکسز سے متعلق دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 76.77 روپے ٹیکسز اور مارجن عائد کیا گیا ہے جبکہ ڈیزل پر فی لیٹر 63.24 روپے ٹیکسز اور مارجن عائد ہیں۔
دستاویز کے مطابق یکم سمتبر کو پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 228 روپے 59 پیسے رہی اور پیٹرول پر لیوی 5 روپے بڑھا کر60 روپے فی لیٹر لیوی مقرر کر دی گئی۔
علاوہ ازیں پیٹرول پر عائد آئی ایف ای مارجن 3.77 روپے فی لیٹر عائد ہے جبکہ پیٹرول پر ڈیلر مارجن 7 روپے اور او ایم سی مارجن 6 روپے فی لیٹر عائد ہے۔
جاری کردہ دستاویز میں مزید بتایا گیا کہ یکم سمتبر کو ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 249.56 روپے رہی، ڈیزل پر او ایم سی مارجن 6.24 روپے فی لیٹر عائد ہے جبکہ ڈیلر مارجن 7 روپے فی لیٹر وصول کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے ڈیزل پر فی لیٹر 63.24 ٹیکسز اور مارجن عائد کیے ہیں جبکہ آئندہ 15 روز کیلئے ڈیزل پر لیوی 50 روپے فی لیٹر برقرار ہے۔
گزشتہ شب حکومت نے ایک بار پھر عوام پر پیٹرول بم گراتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا۔
پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 91 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 305 روپے 36 پیسے ہوگئی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 18 روپے 44 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 311 روپے 84 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















