ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں دیا گیا بیان کھاتہ داروں پر آسمانی بجلی بن کر گرا۔
بعدازاں منفی عوامی ردعمل کے باعث اسٹیٹ بینک نے وضاحتی بیان جاری کرکے ڈپازٹس کو محفوظ قرار دے دیا، تاہم اب اس حوالے سے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے متضاد بیانات غیرضروری ہیں۔
ماہر اقتصادی امور ڈاکٹر ساجد امین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چونکہ اکنامک صورت حال ابتر ہے۔ لوگ بہت زیادہ دیر تک تین چار ماہ پہلے تک ڈیفالٹ کی بات کر رہے تھے اور لگا کہ جیسے پاکستان میں بینک ڈیفالٹ کرنے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حالات میں اس طرح کے بیانات افراتفری پیدا کرتے ہیں اور اس طرح کے بیانات پہلے سے جاری غیر یقینی کو بڑھاوا دیتے ہیں، کسی بھی بینکنگ سیکٹر میں 100 فیصد کوریج کہیں بھی نہیں ہوتی۔
ماہرین اقتصادی امور ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایک لیول تک ڈپازٹر کی رقم کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ اگربینک ڈیفالٹ کرتا ہے تو جو گارنٹی ہے وہ انہیں پیمنٹ دیتی ہے۔ پاکستان میں اسٹیٹ بینک کا ذیلی ادارہ ڈپازٹ پروٹیکشن بیورو 5 لاکھ تک تحفظ دیتا ہے جس سے 94 فیصد ڈپازٹر کور ہوجاتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے انشورنس کور کی حد کم رکھنے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ بینکوں میں رقوم رکھنے کے بجائے اسے خرچ یا استعمال میں لائیں تاکہ معاشی سرگرمی میں اضافہ ہو۔
یاد رہے کہ پاکستان کے کمرشل بینکوں میں اکاؤنٹ ہولڈرز کا جمع شدہ سرمایہ 26 ہزار ارب روپے سے بڑھ گیا۔ گزشتہ 8 ماہ کے دوران ہی ان ڈیپازٹس میں 3 ہزار 356 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تاہم بینکاری نظام میں پانچ لاکھ روپے تک کے ڈیپازٹس جمع کرانے والوں کو ہی انشورنس کور حاصل ہے۔ اس سے زیادہ مالیت کا بینک بیلنس ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں آتا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















