اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) مشن کے تکنیکی مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایف بی آر اور آئی ایم ایف تکنیکی ٹیم کے ورچوئل مذاکرات جاری ہیں جس میں کمپلائنس رسک مینجمنٹ اور مختلف شعبوں سے ٹیکس کی وصولی پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔
ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ ورچوئل مذاکرات میں منافع بخش کاروبار پر ٹیکسوں کے نفاذ پر بھی بات چیت ہوئی اور نان فائلرز کو بھجوائے گئے نوٹسز پر آئی ایم ایف ٹیم کو بریفنگ دی گئی۔
ایف بی آر نے بریفنگ میں بتایا کہ اب تک 7 لاکھ 46 ہزار نان فائلرز کو نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں، نان فائلرز کے خلاف بجلی کے کنکشن کاٹنے کا راست قدم اٹھایا جائے گا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ آئی ایم ایف تکنیکی ٹیم ایف بی آر سے ہونے والے مذاکرات پر رپورٹ جاری کرے گی جبکہ آئی ایم ایف تکنیکی ٹیم اور ایف بی آر کے درمیان رواں ہفتے مذاکرات جاری رہیں گے۔
یاد رہے کہ آئندہ مالی سال کیلئے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 11 ہزار ارب سے زائد رکھنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی حکومت کے اخراجات ساڑھے 16 ہزار ارب تک ہوں گے۔
اس کے علاوہ قرض اور سود کی ادائیگیوں پر آئندہ مالی سال ساڑھے 9 ہزار ارب روپے سے زائد ہوں گے، آئندہ مالی سال دفاعی اخراجات کا تخمینہ 21 سو ارب روپے تک لگایا گیا جبکہ ڈرافٹ میں سبسڈیز اور گرانٹس کی مد میں 3 ہزار ارب روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
صوبوں کو آئندہ مالی سال 5 ہزار 320 ارب روپے جاری کیے جائیں گے، وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت 780 ارب روپے سے زائد رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا، آئندہ مالی سال مالیاتی خسارہ 9 ہزار ارب روپے سے زائد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔



















