Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عالمی سطح پر معیشت سست روی کا شکار

سابق وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر معیشت سست روی کا شکار ہے جس کے باعث ریسورسز میں کمی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے پاکستان ان چینجنگ ورلڈ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اس وقت غیریقینی کی صورتحال ہے، گزشتہ ایک دہائی کے دوران کورونا، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ترقی پذیر ممالک کو زیادہ نقصان پہنچا، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا کو خطرات کا سامنا ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین یو ایس اور روس یوکرین تنازعہ کے باعث بھی دیگر ممالک کو مسائل کا سامنا ہے، عالمی سطح پر معشیت سست روی کا شکار ہے جس کے باعث ریسورسز میں کمی ہوئی ہے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجٹلائزیشن نہ ہونے کے باعث ترقی پذیر ممالک پیچھے رہ گئے۔

عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کے سولہ ماہ کے دوران پاکستان کو دو دفعہ ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ تھا، عالمی ادارہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مڈل ڈویلپمنٹ کنٹری سے لوئر ڈویلپمنٹ کنٹری کی فہرست میں آ گیا۔

انکا کہنا تھا کہ ڈالر ان فلو میں عالمی اداروں کی اس وقت پاکستان کیلئے حمایت سست روی کا شکار ہے، پاکستان کے ذمہ واجب الادا بیرونی قرض 8 سال میں تقریباً دوگنا ہوگیا، پاکستان کو اگلے تین سال کے دوران ایکسٹرنل فنانسنگ کیلئے 63 ارب ڈالر درکار ہیں۔

سابق وزیر مملکت نے کہا کہ برآمدات اور ترسیلات کا حجم 60 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 70 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ نہ دیا گیا تو مستحکم گروتھ کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ روپیہ کی قدر سے ستر کی دہائی میں پاکستان میں فی کس آمدن آج کے دور کی نسبت زیادہ تھی، بے روزگاری کی شرح 7 فیصد تک جبکہ پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 16 فیصد تک ہو چکی ہے، پاکستان میں ٹیکس پالیسی میں ترامیم نہ کی گئی تو محصولات بڑھانے کا ہدف حاصل مشکل ہو جائے گا۔

عائشہ غوث پاشا نے مزید کہا کہ معاشی اصلاحات کیلئے بروقت اقدامات نہ کرنا پاکستان میں انتہائی سنگین مسئلہ ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں امیر طبقہ ہر طرح کی مراعات حاصل کر رہا ہے، پاکستان میں غریب آدمی پر خرچ نہیں کیا جا رہا جبکہ امیر لوگوں پر نوازشات ہیں۔