اسلام آباد: وزارت خزانہ کی دستاویز میں حکومتی اداروں میں اربوں روپے کے نقصانات ہونے کا بڑا انکشاف ہوا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ دستاویز کے مطابق سال 2022 میں حکومتی ملکیتی اداروں کے نقصانات 729 ارب روپے سے زیادہ رہے جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے نقصانات 168 ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ 2022 میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات 102 ارب سے زیادہ رہے اور پی آئی اے کے نقصانات 97 ارب 53 کروڑ روپے سے زیادہ رہے۔
وزارت خزانہ نے اپنی دستاویز میں بتایا کہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات 76 ارب 41 کروڑ روپے سے زیادہ رہے جبکہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات بھی 54 ارب 40 کروڑ روپے سے زیادہ رہے۔
اس کے علاوہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کو 30 ارب 21 کروڑ روپے سے زیادہ کے مالی نقصان کا سامنا رہا جبکہ سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات 29 ارب 48 کروڑ سے زیادہ رہے۔
دستاویز کے مطابق پاکستان ریلویز کے نقصانات 47 ارب 48 کروڑ روپے سے زیادہ رہے جبکہ میپکو کے 22 ارب روپے سے زیادہ اور ٹیسکو کے نقصانات 21 ارب روپے زیادہ رہے۔
وزارت خزانہ کی دستاویز میں مزید بتایا گیا کہ دیگر حکومتی ملکیتی اداروں کے نقصانات 80 ارب روپے سے زیادہ ریکارڈ کیے گئے۔



















