نئی گاڑی خریدنے والوں کیلئے اہم خبر آگئی ہے۔
نگران کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی مقامی سطح طور تیار یا اسمبل کردہ بعض گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کو بڑھا کر 25 فیصد کرنے کی تجویز کو منظور کر لیا ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کی جمعرات کو نگراں وفاقی کابینہ نے بھی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
اگرچہ اس حوالے سے اب تک کوئی سرکاری نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم ایف بی آر نے یہ تجویز دی تھی کہ اُن تمام گاڑیوں پر 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے جن کی قیمت 40 لاکھ روپے سے زیادہ ہے یا ان میں 1400 سی سی سے زیادہ انجن ہے یا پھر وہ ڈبل کیبن ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال کے پہلے مہینے یعنی جنوری 2024 میں پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں 81 فیصد اضافہ ہوا اور یہ اضافہ گزشتہ 11 ماہ کے دوران سب سے بڑا اضافہ تھا۔



















