اسلام آباد: عالمی بینک نے آئندہ مالی سال 2024-25 کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی کی پیش گوئی کر دی ہے۔
عالمی بینک نے پاکستان ڈویلپمنٹ آؤٹ لک جاری کردی، جس میں عالمی بینک نے پاکستان کی جی ڈی پی اگلے تین سال میں 3 فیصد سے کم رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی شرح نمو 1.8 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ سال 2025 میں پاکستان کی شرح نمو 2.3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2026 میں پاکستان کی شرح نمو 2.7 فیصد رہنے کا امکان ہے اور رواں مالی سال زرعی شرح نمو 3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔
عالمی بینک نے رپورٹ میں بتایا کہ سال 2025 میں زرعی شرح نمو کم ہوکر 2.2 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ سال 2026 میں زرعی نمو 2.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 26 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ مالی سال 2025 میں مہنگائی 15 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے اور مالی سال 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال صنعتی ترقی کی نمو 1.8 فیصد رہنے کا امکان ہے، مالی سال 2025 میں صنعتی ترقی 2.2 فیصد اور سال 2026 میں 2.4 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ رواں مالی سال مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 8 فیصد تک رہنے کا امکان ہے اور مالی سال 2025 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 7.4 فیصد رہنے کا امکان ہے، تاہم مالی سال 2026 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 6.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں رواں سال معاشی شرح نمو 3.5 فیصد ہدف کے بجائے 1.8 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی، تاہم شرح سود اور مہنگائی میں کمی کا انحصار پائیدار مالی استحکام پر ہے، مختلف شعبوں کو سبسڈیز، گرانٹس، قرضے معیشت کو متاثر کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 206 حکومتی ملکیتی اداروں میں شامل 88 کمرشل اداروں کے پاس 99 فیصد اثاثے ہیں، حکومت کے مالی خسارے میں 18 فیصد حصہ سرکاری اداروں کا شامل ہے جبکہ سال 2022 میں سرکاری اداروں پر 1 ہزار 303 ارب روپے کے اخراجات آئے۔
عالمی بینک نے رپورٹ میں این ایچ اے، پی آئی اے، اسٹیل مل کے نقصانات کم کرنے پر زور دیتے ہوئے پاکستان کے موجودہ معاشی استحکام کو غیر پائیدار قرار دیدیا۔
رپورٹ میں عالمی بینک نے انرجی سیکٹر سمیت سرکاری اداروں میں مشکل اصلاحات پر زور دیتے ہوئے توانائی شعبے کے ساتھ ساتھ پینشن اور سول سروس میں اصلاحات بھی ناگزیر قرار دے دیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال قرضوں کی شرح 73.1 فیصد سے کم ہو کر 72.3 فیصد پر آنے کا امکان ہے جبکہ مالی استحکام کیلئے پرائمری خسارہ قابو میں رکھنا سب سے اہم ہوگا۔
عالمی بینک نے معیشت کی بہتری کے لیے ناکافی قرار دے دیا اور کہا کہ پاکستان کو امپورٹ مینجمنٹ پر تاحال سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی، پاکستان کو قرضوں کی مینجمنٹ پر توجہ دینا ہوگی۔



















