صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں اور ٹیکسز کی شرح میں اضافہ مہنگائی کی شرح میں اضافے کا باعث بنے گا۔
صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ ٹیکسز کی شرح اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے رواں مالی مہنگائی کی شرح 22 فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔ یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے اپنے اخراجات میں کمی کرے، رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومتی اخراجات میں 30 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، اپنے اخراجات میں اضافہ کر کے بوجھ عوام اور صنعت کاروں پر منتقل کردیا گیا، بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافے سے عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
عاطف اکرام نے کہا کہ پاکستان میں بجلی خطے کے دیگر ممالک سے مہنگی ہے، بلند شرح سود پر کمرشل بینکوں سے لیا گیا قرض معیشت کیلئے زہر قاتل ہے جس پر رواں مالی سال کمرشل بینکوں سے قرضوں پر 8500 ارب روپے حکومت نے سود ادا کرنا ہے۔
صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدہ خوش آئند لیکن بوجھ عوام پر نہ ڈالا جائے کیونکہ مہنگی توانائی کے نتیجے پیداواری لاگت میں اضافے سے مہنگائی بڑھے گی، حکومت نے رواں مالی سال مہنگائی کا ہدف 12 فیصد رکھا ہے، یہی حالات رہے تو مہنگائی کی شرح 22 فیصد تک ہوگی۔



















