عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) نے پنجاب حکومت کی بجلی ریلیف پالیسی پر اعتراض اٹھا دیا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب حکومت بجلی بلوں میں ریلیف 30 ستمبر تک ختم کردے۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران کوئی صوبہ سبسڈی نہیں دے سکتا، آئی ایم ایف نے صوبوں پر نئی شرائط عائد کردی ہیں۔
آئی ایم ایف شرائط کے مطابق صوبے گیس و بجلی پر کوئی سبسڈی نہیں دے سکتے۔ صوبے کوئی ایسی پالیسی نہیں بناسکتے جو آئی ایم ایف پروگرام سے متصادم ہو۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی شرط کے تحت ستمبر کے آخر تک صوبے قومی مالیاتی معاہدے پر دستخط کریں گے۔
صوبائی حکومتوں نے زرعی انکم ٹیکس، جائیداد پر ٹیکس کے حصول کا وعدہ کیا ہے۔ صوبے خدمات پر سیلز ٹیکس کے حصول کا بھی وعدہ کرچکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی نئی شرائط کے تحت پنجاب حکومت کا سولر فراہمی منصوبہ خطرے کا شکار ہے۔



















