وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ 2025 تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت پی ایس ڈی پی 2023-24 کا سالانہ جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی و صوبائی سیکرٹریز، حکومتی نمائندوں اور حکام نے شرکت کی۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو بے شمار معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، موجودہ معاشی حالات میں ترقیاتی بجٹ بنانا خود بہت بڑا چیلنج تھا، ترقیاتی بجٹ کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی کی نااہلی کا خمیازہ معاشی بحران کی صورت میں بھگت رہے ہیں، 2013 میں ترقیاتی بجٹ محض 340 ارب تک محدود تھا، ہم نے 2018 تک اسے ایک ہزار ارب روپے تک پہنچایا، 2018 میں نام نہاد تبدیلی مسلط نہ کی جاتی تو آج یہ ترقیاتی بجٹ 3 ہزار ارب تک پہنچ چکا ہوتا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ آج 2024 میں بمشکل 1100 ارب کے ترقیاتی بجٹ پر پہنچے ہیں، 1100 ارب روپے کا بجٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمیں ترقیاتی منصوبوں پر کس قدر سمجھوتہ کرنا پڑا، ستم یہ کہ 2018 میں ترقیاتی بجٹ جو 12 فیصد تھا آج سکڑ کر چار فیصد تک آگیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں پالیسی کا تسلسل ہوتا تو آج ترقیاتی بجٹ 15 فیصد تک پہنچ چکا ہوتا، وزارت اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ترقیاتی بجٹ کا مطالبہ یا منصوبے بناتے وقت قومی ترجیحات کا خیال رکھیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہم ترقیاتی بجٹ کے غلط استعمال کے متحمل نہیں ہو سکتے، ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے ہمیں اپنی ترجیحات کا ازسر نو تعین کرنا ہوگا، آج بجٹ، سبسڈیز، تنخواہوں اور پنشنوں سمیت بہت سارے امور قرض کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ہمیں قرضوں کے بجائے ملکی وسائل پر بھروسہ کرنا ہوگا، حکومتی آمدن بڑھانے اور اخراجات میں توازن قائم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے، ایسے منصوبوں کا آغاز ہی نہ کیا جائے جن کا عوام کی زندگیوں پر کوئی اثر نہ ہو، 2025 تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔



















