پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اگست 2026 میں نمایاں کمی کے بعد 98 ملین ڈالر رہا جبکہ جولائی 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 445 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست 2026 کے دوران پاکستان کا مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 543 ملین ڈالر رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق اگست میں اشیاء کی برآمدات 2 ارب 460 ملین ڈالر جبکہ اشیاء کی درآمدات 5 ارب 486 ملین ڈالر رہیں، جس کے نتیجے میں اشیاء کی تجارت کا خسارہ 3 ارب 26 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
اگست کے دوران خدمات کی برآمدات 872 ملین ڈالر رہیں جبکہ خدمات کی درآمدات ایک ارب 158 ملین ڈالر ریکارڈ ہوئیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی تا اگست 2026 پاکستان کو ترسیلات زر کی مد میں 7 ارب 730 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ اسی عرصے کے دوران مالیاتی کھاتے میں 486 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔
اگست 2026 میں مجموعی ادائیگیوں کا توازن 118 ملین ڈالر خسارے میں رہا، تاہم جولائی تا اگست کے دو ماہ کے دوران مجموعی ادائیگیوں کا توازن ایک ارب 271 ملین ڈالر سرپلس رہا۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگست میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں جولائی کے مقابلے میں نمایاں کمی آئی، تاہم درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑا فرق بدستور بیرونی شعبے کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔ دوسری جانب ترسیلات زر اور مالیاتی کھاتے کے سرپلس نے مجموعی بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دیا۔


















