اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے بار بار پیدا ہونے والے بحرانوں سے نکلنے اور معاشی خودمختاری مضبوط بنانے کے لیے عالمی سطح پر مسابقتی برآمدی معیشت تعمیر کرنا ہوگی جبکہ ملک کے لیے 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) میں پاکستان سوسائٹی آف ڈویلپمنٹ اکنامسٹس (پی ایس ڈی ای) کی 39ویں بین الاقوامی کانفرنس اور سالانہ اجلاسِ عام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پائیدار معاشی خوشحالی کے لیے پاکستان کو زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔
کانفرنس کا عنوان ’’مشن 100 ارب ڈالر: پائیدار برآمدی ترقی کے لیے قومی دوڑ‘‘ ہے جس میں برآمدات میں اضافے اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ کسی بھی قوم کی معاشی خودمختاری کا انحصار اس صلاحیت پر ہوتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنے اخراجات خود پورے کرسکے۔ انہوں نے کامیاب ایشیائی معیشتوں کے مقابلے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے برآمدی فرق کی نشاندہی بھی کی۔
وفاقی وزیر نے حکومت کے منصوبے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت مسابقتی صنعتی کلسٹرز، مکمل ویلیو چینز کی ترقی اور عالمی سپلائی نیٹ ورکس میں شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے پائیڈ اور تحقیقی ماہرین پر زور دیا کہ وہ ایسے قابلِ عمل منصوبے تیار کریں جن میں برآمدی مصنوعات، ممکنہ منڈیوں، موجودہ خامیوں، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور عمل درآمد کے اوقاتِ کار کی واضح نشاندہی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں پائیدار کامیابی کے لیے سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے ایسی تحقیق کی حوصلہ افزائی بھی کی جو حکومتی مفروضوں کو چیلنج کرے اور معاشی ترقی کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرے۔
پائیڈ کے وائس چانسلر اور پی ایس ڈی ای کے صدر ڈاکٹر ندیم جاوید نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ پاکستان کی کمزور برآمدات کا تعلق ایسے معاشی مراعاتی ڈھانچے سے ہے جس میں عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کے بجائے محفوظ مقامی منڈیوں میں کاروبار کرنا زیادہ پرکشش بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے ’’برآمدی جال‘‘ میں پھنسا ہوا ہے جس میں محدود برآمدی بنیاد زرمبادلہ پر دباؤ بڑھاتی ہے جس کے نتیجے میں مسابقت بڑھانے کے لیے درکار سرمایہ کاری اور پیداواری درآمدات متاثر ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ 100 ارب ڈالر کا برآمدی ہدف محض کامیابی کا پیمانہ ہے، خود حکمت عملی نہیں۔ ان کے مطابق ایسے راستے اختیار کرنا ضروری ہیں جو کمپنیوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں اور حکومتی معاونت کو قابلِ پیمائش کارکردگی سے مشروط کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ برآمدات میں کامیابی کو بہتر روزگار، حقیقی اجرتوں میں اضافے اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کی بنیاد پر بھی جانچا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر ندیم جاوید نے پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے لیے پانچ اہم راستے تجویز کیے۔
ان میں ٹیکسٹائل، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں موجود صلاحیتوں کو بہتر بنانا، ایسی برآمدی سرمایہ کاری کو راغب کرنا جو نئی ٹیکنالوجی، خریداروں اور مقامی سپلائرز کے لیے مواقع پیدا کرے اور نئے برآمد کنندگان کو ابتدائی آرڈرز سے لے کر بڑے پیمانے پر پیداوار اور زیادہ قدر والی مصنوعات کی تیاری تک معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔
ان کے تجویز کردہ اقدامات میں تجربات اور کارکردگی کی بنیاد پر برآمدی نمو کے نئے محرکات تلاش کرنا بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سفارتی تعلقات اور جغرافیائی اہمیت کو مؤثر تجارتی روابط میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے قابلِ استعمال تجارتی راہداریاں، تسلیم شدہ معیارات اور خریداروں کے نیٹ ورکس اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
کانفرنس کے مہمانِ اعزاز اور حکومتِ سنکیانگ، چین کے سینئر مشیر یوان جیانمن نے سی پیک 2.0 کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے امکانات اجاگر کیے۔
انہوں نے زرعی اور غذائی مصنوعات کی تجارت بڑھانے، خنجراب کے راستے تازہ پیداوار کی ترسیل کے لیے گرین چینل قائم کرنے اور سرحد پار ادائیگیوں میں چینی کرنسی رینمنبی (آر ایم بی) کے زیادہ استعمال کی تجاویز پیش کیں۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت، آئی ٹی آؤٹ سورسنگ اور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ ان تجاویز کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو تجارتی سرگرمیوں اور پیداواری شراکت داریوں میں تبدیل کرنے کے امکانات کو اجاگر کرنا تھا۔
پائیڈ کے ڈین پالیسی اور پی ایس ڈی ای کے سیکرٹری ڈاکٹر فہیم جہانگیر نے سیکرٹری کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 204 تحقیقی خلاصوں میں سے بلائنڈ ریویو کے ذریعے 24 مقالے منتخب کیے گئے ہیں جبکہ 31 پی ایچ ڈی اسکالرز پوسٹر پریزنٹیشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے وفاقی وزیر کی ہدایت پر نمایاں تحقیقی مقالوں اور پوسٹرز کے لیے نقد انعامات کا اعلان کیا اور بتایا کہ پی ایس ڈی ای میں 541 نئے اراکین کا اضافہ ہوا ہے۔
دو روزہ کانفرنس میں محققین، پالیسی سازوں اور کاروباری شعبے کی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا ہے۔ اس دوران پینل مباحثے، یادگاری لیکچرز، تکنیکی سیشنز اور تحقیقی نمائشوں کے علاوہ تحقیقی تحریر اور اشاعت کے موضوع پر خصوصی پی ایچ ڈی سمپوزیم بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔
