پاکستان کی مالی سال 2026 کی معاشی ترقی کی شرح نظرثانی کے بعد 3.70 فیصد سے کم کرکے 3.65 فیصد کردی گئی، جبکہ مالی سال 2025 کی شرح بھی 3.18 فیصد سے گھٹ کر 3.11 فیصد ہوگئی۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق مالی سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں معاشی ترقی کی رفتار نمایاں طور پر سست پڑگئی اور شرح کم ہوکر 2 فیصد رہ گئی۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.89 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو دوسری سہ ماہی میں بڑھ کر 4.31 فیصد اور تیسری سہ ماہی میں 4.42 فیصد تک پہنچ گئی، تاہم چوتھی سہ ماہی میں یہ کم ہوکر 2 فیصد رہ گئی۔
شعبہ وار کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے دوران زرعی شعبے نے 3.50 فیصد، صنعتی شعبے نے 3.34 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے نے 3.81 فیصد ترقی کی۔
اعداد و شمار کے مطابق خدمات کا شعبہ ترقی کی شرح کے لحاظ سے دیگر دو بڑے شعبوں سے آگے رہا، جبکہ صنعتی شعبے کی نمو نسبتاً کم ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت کا مجموعی حجم بڑھ کر 126.4 ٹریلین روپے ہوگیا، جس کی ڈالر میں مالیت 450.4 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح ملک میں فی کس آمدن 5 لاکھ 31 ہزار 897 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ ڈالر میں فی کس آمدن 1,896 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
مالی سال 2026 کی مجموعی معاشی ترقی کی شرح میں کمی اور آخری سہ ماہی میں نمو کے 2 فیصد تک محدود رہنے کے اعداد و شمار ملک کی معاشی کارکردگی میں سست روی کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں میں ہونے والی ترقی مجموعی معاشی نمو میں اپنا حصہ ڈالتی رہی۔
