احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ریفرنس پر محفوظ فیصلہ ایک بار پھر مؤخر کر دیا۔
احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر کے خلاف ایل این جی ریفرنس پر سماعت کی۔
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے ایل این جی ریفرنس کا محفوظ شدہ فیصلہ ایک بار پھر مؤخر کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ مکمل تحریر نہیں کیا جا سکا مزید وقت درکار ہے۔
عدالت نے محفوظ شدہ فیصلہ سنانے کیلئے نئی تاریخ مقرر کردی، اب کیس کا فیصلہ 18 تاریخ کو سنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 18 جولائی 2019 کو قومی احتساب بیورو نے مائع قدرتی گیس کیس میں گرفتار کیا تھا اور انہیں فروری 2020 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت پر رہا گیا گیا تھا۔
ان پر الزام ہےکہ انہوں نے اس وقت قوائد کے خلاف ایل این جی ٹرمینل کے لیے 15 سال کا ٹھیکہ دیا، یہ ٹھیکہ اس وقت دیا گیا تھا جب سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے۔
بعدازاں 3 دسمبر 2019 کو نیب نے احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس دائر کیا تھا، جس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سابق چیئرمین سعید احمد خان سمیت 10 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔
