Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ کے ججز کیخلاف کردار کشی مہم کی تحقیقات میں اہم پیشرفت

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر حالیہ کردار کشی مہم میں  سیاسی جماعت سے جڑے اکاؤنٹس ملوث نکلے، ججز کی بیگمات کو ایئر پورٹس پرچیکنگ سے مستثنیٰ قرار دینے والے پرانے خط کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا گیا، بغیر تحقیق سوشل میڈیا پر عدلیہ، ججز اور ان کی فیملیز سے متعلق ہتک آمیز مہم چلائی گئی۔

اداروں کی تحقیقات میں ججز کو بدنام کرنے کی مہم کے پیچھے سیاسی جماعت سے جڑے جانے مانے پروپیگنڈا اکاؤنٹس نکلے، ہوا بازی ڈویژن کا 12 اکتوبر کا مراسلہ 15 دسمبر ( تقریباً 2 ماہ کے بعد) کو سب سے پہلے سیاسی جماعت سے وابستہ جے بی نامی اکاؤنٹ سے پوسٹ ہوا، اس کے بعد عمر محمود حیات کے اکاؤنٹ سے 16 دسمبر رات گیارہ بج کر انتالیس منٹ پر مذکورہ مراسلہ پوسٹ ہوا۔

 ان اکاؤنٹ سے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے مقدمات پر ججز اور عدلیہ کو پہلے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جبکہ چند سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نے بھی مخصوص سیاسی جماعت کے ٹارگٹڈ ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔

ججز کردار کشی مہم میں سیاسی جماعت سے جڑے اکاؤنٹس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جھوٹے پروپیگنڈے کو وائرل کرنے میں پیش پیش رہے، مخصوص سیاسی جماعت کے حامی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور چند ولاگر سوشل میڈیا ٹرینڈ بنانے میں پیش پیش رہے۔

چند ٹی وی چینلز پر چلائی گئی خبروں کے اسکرین شاٹ لے کر بھی سوشل میڈیا پر سیاسی جماعت سے جڑے ٹرولز کے ذریعے مذموم مقصد کو آگے بڑھایا جاتا رہا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری وضاحت سے پروپیگنڈے کو کاؤنٹر کیا گیا، تاہم اس وقت تک کردار کشی مہم عروج پر پہنچ چکی تھی۔

افسوسناک امر یہ رہا کہ اس فیک نیوز کو  پھیلانے والوں نے وضاحت نامے کے بعد  بھی اپنے فالوورز کو کوئی وضاحت تک نہ دی اور نہ ہی معذرت کی، تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا، عدلیہ و ججز کو دباؤ میں لانے کے لیے سیاسی جماعت ماضی میں بھی ہر حربہ آزما چکی ہے، سیاسی جماعت کے سابقہ چیئرمین جج زیبا کو کھلے عام دھمکا چکے ہیں، یہ کیس اب بھی زیر سماعت ہے۔

علاوہ ازیں اگست 2023میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق کو بھی کردار کشی مہم کا نشانہ بنایا گیا، سابقہ چیئرمین کو سزا سنانے والے جج ہمایوں دلاور پر لندن میں بھی سیاسی جماعت کے کارکنان نے دھاوا بولا۔

اس حوالے سے تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت سے جڑے ٹرولز کا ججز کو دباؤ میں لانے کا طریقہ واردات انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، اہم عدالتی مقدمات کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات میں سیاسی جماعت کی ساکھ بچانے کا مشن بھی درپیش ہے، جس کے لیے بھی عدلیہ پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر اعلیٰ عدلیہ کی ہرزہ سرائی ایک قابل مذمت عمل ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کر کے ایسے کرداروں کو بے نقاب کرنے اور قانوں کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version